1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

حامیوں کے لیے اسلحے کے دروازے کھول دیں گے، قذافی

معمر قذافی نے جمعے کو اپنے عوامی خطاب میں کہا ہے کہ وہ باغیوں کی سرکوبی کی غرض سے اپنے حامیوں کے لیے فوجی اثاثے عام کر دیں گے۔ یہ بات تب کہی گئی ہے، جب مظاہرین دارالحکومت طرابلس کا کنڑول سنبھالنے کی تگ ودو میں ہیں۔

default

اپنی اس تند و تیز تقریر میں قدافی نے طرابلس کے گرین اسکوئر میں اپنے سیکنڑوں حامیوں سے کہا کہ وہ اپنے شہر کی حفاظت کے لیے تیار ہو جائیں۔اس موقع پر معمر قذافی کے حامیوں کے زبردست نعرے بازی بھی کی۔

Unruhen in Libyen Flash-Galerie

مظاہرین قذافی سے حکومت چھوڑنے کا مطالبہ کر رہے ہیں

اس سے قبل قدافی کے حامیوں نے براہ راست فائرنگ کر کے دارالحکومت طربلس میں متعدد افراد کو ہلاک کر دیا۔ قذافی نے اپنے خطاب میں کہا،’ میں علیٰ اعلان کہتا ہوں کہ اب لیبیا کے دفاع کا وقت آ گیا ہے۔ اگر ضرورت پڑی، تو اسلحے کے دروازے کھول دیے جائیں گے۔‘ انہوں نے کہا، ’ہم ان (حکومت مخالفین) سے لڑیں گے اور انہیں شکست دیں گے۔‘

اس موقع پر قذافی کے حامیوں نے ان کے تصاویر والے پوسٹرز اور سبز جھنڈے اٹھا رکھے تھے۔ سرکاری ٹی وی چینل پر نشر کیے گئے مناظر میں 68 سالہ قذافی دوران تقریر مسلسل اپنے دونوں بازو جذباتی انداز میں جھٹک رہے تھے۔

پندرہ فروری سے ملک کے مشرقی شہر بن غازی میں شروع ہونے والی حکومت مخالف تحریک اب سارے ملک میں پھیل چکی ہے جبکہ سکیورٹی فورسز اور معمر قدافی کے حامیوں کی طرف سے حکومت مخالف مظاہرین کے خلاف زبردست کریک ڈاؤن کے باعث اب تک سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اس کے علاوہ ہزاروں غیرملکی افراد لیبیا سے نکلنے کی کوششوں میں سرگرداں ہیں۔ اس سے قبل بھی قذافی نے واضح الفاظ میں اپنے حامیوں کے حکومت مخالف مظاہرین کے خلاف کارروائیاں کرنے کے لیے کہا تھا۔ انہوں نے جمعے کے روز اپنی تقریر میں ایک مرتبہ پھر کہا، ’زندگی وقار کےبغیر کوئی معنی نہیں رکھتی، زندگی سبز جھنڈے کے بغیر کوئی معنی نہیں رکھتی۔ ناچو، گاؤ اور تیار رہو۔‘ اس موقع پر مجمع میں موجود بعض افراد نعرے لگا رہے تھے، ’خدا، قدافی، لیبیا اور بس۔‘

Libyen Soldaten

لیبیا کی فورسز مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن میں مصروف ہیں

مظاہروں کے آغاز سے اب تک قذافی کا عوام سے یہ تیسرا خطاب ہے۔ اس سے قبل قدافی نے حکومت مخالف مظاہرین کو ’لاابالی نوجوان اور منشیات کے لیے سرگرداں جتھے‘ قرار دیا تھا جبکہ گزشتہ روز انہوں نے ان مظاہروں کا الزام دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن پر عائد کیا تھا۔

لیبیا میں حکومت مخالف مظاہرین کے خلاف بدترین اور خونریز کریک ڈاؤن کی مذمت دنیا بھر سے کی جا رہی ہے، جبکہ ترکی کا دورہ کرنے والے فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی نے اپنے ایک بیان میں واضح الفاظ میں کہا کہ ’اب قذافی کو حکومت چھوڑنا ہی پڑی گی۔‘

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : عاطف بلوچ

DW.COM

ویب لنکس