1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

حاملہ کرنے کے بعد شادی نہ کرنے والے مرد کو جیل جانا ہوگا

میانمار کی حکومت ایک ایسا نیا قانون بنانے جا رہی ہے، جس کے تحت ایسے مرد کو سات برس تک قید کی سزا سنائی جا سکے گی، جو کسی خاتون کو حاملہ کرنے کے بعد اس سے شادی کرنے سے انکار کر دے گا۔

میانمار (برما) حکومت ملک میں خواتین کو مضبوط بنانے کے لیے ایک ایسا قانون متعارف کروانے کا  منصوبہ بنا رہی ہے، جس کے تحت مردوں کو جیل کی ہوا کھانا پر سکتی ہے۔ میانمار کے ایک اعلیٰ اہلکار کا نیوز ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ملک طویل عرصے کے بعد فوجی اثرو رسوخ سے باہر نکل رہا ہے اور خواتین کو بااختیار بنانے کے حوالے سے یہ ایک اہم موقع ہے۔

Myanmar Birma Politische Häftlinge werden freigelassen (AP)

بدھ مت اکثریت والا میانمار سماجی لحاظ سے ایک قدامت پسند ملک ہے اور جنسی تعلق جیسا موضوع شجر ممنوعہ سمجھا جاتا ہے

محکمہ سماجی بہبود کے ڈائریکٹر نوتھا واہ کے مطابق نئے قانون کے تحت گھریلو تشدد کو بھی ایک جرم قرار دیا جائے گا اور معاشرے میں اجتماعی زیادتی کے واقعات میں بھی کمی واقع ہو گی۔ اس اہلکار کا  مزید کہنا تھا، ’’اس قانون کے تحت ایسی خواتین بھی شکایت درج کروا سکتی ہیں، جو کسی کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرتی ہیں لیکن حاملہ ہونے کے بعد مرد ان سے شادی کرنے سے انکار کر دیتے ہیں۔ ہم ایسی خواتین کو تحفظ فراہم کرنا چاہتے ہیں۔‘‘

بدھ مت اکثریت والا میانمار سماجی لحاظ سے ایک قدامت پسند ملک ہے اور جنسی تعلق جیسا موضوع شجر ممنوعہ سمجھا جاتا ہے۔ برمی زبان میں خواتین کے اعضائے مخصوصہ کے لیے کوئی لفظ ہی نہیں ہے۔ خواتین کے زیر جامہ کپڑوں کو ناپاک تصور کیا جاتا ہے اور ان کو مردوں کے کپڑوں کے ساتھ دھونے کی بھی ممانعت ہے۔

میانمار میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے تنظیموں کے مطابق سن 2011ء کے بعد سے خواتین کے حقوق کے حوالے سے آگاہی میں اضافہ ہوا ہے لیکن ابھی تک اس معاشرے میں خواتین کو دوسرے درجے کا شہری سمجھا جاتا ہے۔ میانمار میں ابھی تک ایسا کوئی ایک بھی قانون موجود نہیں ہے، جو خواتین پر گھریلو تشدد روکتا ہو یا پھر انہیں ہراساں کرنے کی صورت میں کسی قانونی کارروائی کی اجازت دیتا ہو۔ خواتین کے حوالے سے مجوزہ قانون کی منظوری فی الحال پارلیمان سے ہونا باقی ہے۔