1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

حامد کرزئی کے دورہ امریکہ کا آغاز

افغان صدر حامد کرزئی نے پیر کو چار روزہ دورہ امریکہ کا آغاز کر دیا ہے۔ وہ امریکی صدر سے ملاقات بھی کریں گے، جس کے ایجنڈے میں افغانستان میں ہونے والی شہری ہلاکتوں اور وہاں حکومتی سطح پر پائی جانے والی بدعنوانی ہے۔

default

افغان صدر حامد کرزئی اپنے امریکی ہم منصب باراک اوباما کے ساتھ

افغانستان کے صدر حامد کرزئی بدھ کو واشنگٹن میں اپنے امریکی ہم منصب باراک اوباما سے ملاقات کریں گے۔ افغان صدارتی ترجمان وحید عمر کا کہنا ہے کہ شہری ہلاکتیں اس ملاقات کے ایجنڈے پر سرفہرست ہیں۔

General Stanley Mc Chrystal

امریکی جنرل اسٹینلی میک کرسٹل

افغانستان میں اتحادی افواج کے حملوں کے نتیجے میں بڑھتی ہوئی شہری ہلاکتوں سے وہاں غیرملکی فوج کی موجودگی کے حوالے سے عوامی حمایت کم ہوئی ہے۔ گزشتہ برس وہاں مختلف حملوں میں دوہزار 400 شہری ہلاک ہوئے اور یوں 2009ء افغان مشن کے لئے بدترین سال رہا۔

دوسری جانب افغانستان میں نیٹو افواج کے کمانڈر امریکی جنرل اسٹینلی میک کرسٹل کا کہنا ہے کہ جنگی حکمت عملی کو کارگر بنانے کے لئے شہری ہلاکتوں میں کمی ضروری ہے۔

پیر کو وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے خطاب میں جنرل میک کرسٹل نے کہا کہ اتحادی افواج کی افغانستان میں موجودگی وہاں کے عوام کی فلاح کے لئے ہے اور وہاں کے لوگوں کو اس بات پر قائل کرنے کے لئے شہری ہلاکتوں میں کمی ضروری ہے۔

افغانستان میں تعینات امریکی سفیر کارل ایکن بیری کا کہنا ہے کہ اوباما۔کرزئی ملاقات کے ایجنڈے کا ایک اور اہم موضوع کابل حکومت کا ’احتساب‘ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اصل مسئلہ افغان عوام کو مطمئن کرنے کا ہے اور اس مقصد کے لئے نظم و نسق کو بہتر بنانے اور بدعنوانی پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔

تاہم وحید عمر نے بدعنوانی پر قابو پانے کے لئے اپنی حکومت کی کوششوں کا دفاع کرتے ہوئے توقع ظاہر کی ہے کہ حامد کرزئی اور امریکی حکام کے درمیان بات چیت خوشگوار رہے گی۔

Karl Eikenberry

افغانستان میں تعینات امریکی سفیر کارل ایکن بیری

انہوں نے کہا کہ گزشتہ نو برس سے جاری افغان جنگ اس وقت ایک کڑے دور سے گزر رہی ہے جبکہ کچھ عرصے سے افغان اور امریکی حکام کے درمیان تناؤ بھی رہا ہے، جس کے بعد صدر کے اس دورے کا مقصد دونوں جانب سے ایک متحدہ اتحاد کا اظہار ہے۔

وحید عمر نے ایک ریڈیو انٹرویو میں یہ بھی کہا کہ بہترین رویہ اپنانے کے ساتھ ساتھ افغان صدر امریکی حکام کے سامنے باعث تشویش معاملات بھی اٹھائیں گے، جن پر توجہ دینے سے کابل اور واشنگٹن حکومتوں کے تعلقات مزید مستحکم ہو سکتے ہیں۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: عابد حسین

DW.COM