1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

حامد کرزئی کو دوبارہ ووٹنگ کا سامنا

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے، انتخابی شکایات کی تحقیقات کرنے والے اقوام متحدہ کے کمیشن کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ صدر حامد کرزئی کو ملنے والے ووٹوں کا تناسب گھٹ کر سینتالیس فیصد رہ گیا ہے۔

default

کرزئی کو دوبارہ صدر بننے کے لئے پچاس فیصد سے زیادہ ووٹ درکار ہیں۔ خود مختار الیکشن کمیشن نے غیر حتمی نتائج کا اعلان کرتے ہوئے بتایا تھا کہ کرزئی کو پچپن فیصد جبکہ ان کے قریبی حریف عبدللہ عبدللہ کو اٹھائیس فیصد ووٹ ملے ہیں۔

واضح رہے کہ افغانستان کے لئے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے کائی ایڈے کہہ چکے ہیں کہ صدارتی انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی ہوئی ہے۔

حالیہ رپورٹ کے مطابق دوبارہ انتخاب کے لئے دونوں امیدواروں کے نام والے بیلٹ پیپرز اور ان مٹ سیاہی کا بھی بندوبست کر لیا گیا ہے۔ کمیشن کی باضابطہ رپورٹ اتوار کو متوقع ہے، جس میں دوبارہ پولنگ کے حوالے سے حتمی اعلان کیا جائے گا۔

ادھر امریکہ میں افغانستان کے سفیر طیب جاوید نے بھی امکان ظاہر کر دیا ہے کہ صدارتی انتخاب کا اگلا دور ممکن ہے۔ افغان دستور کے مطابق دوبارہ انتخاب پر عملدرآمد، اعلان کے دو ہفتوں کے اندر اندر ہوجانا چاہیے۔

واضح رہے کہ دو ہفتوں کے بعد افغانستان کے شمالی اور پہاڑی علاقوں میں شدید سردی کے باعث ووٹ پڑنے کا تناسب انتہائی کم رہنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ تاہم جاوید کے بقول دوبارہ انتخابات کے لئے موسم سرما کے خاتمے کا انتظار کرنا معاملے کو مزید پیچیدہ اور گھمبیر بنا سکتا ہے

Flash-Galerie Wahlen Afghanistan

صدر کرزئی کے قریبی حریف، عبدللہ عبدللہ نے خبردار کیا ہے کہ حالات کے ذمہ دار دھاندلی کرنے والے ہوں گے۔

افغان صدر متعدد بار انتخابی دھاندلی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اسے سیاسی انتقام قرار دے رہے ہیں۔ تاہم یورپی یونین کا مبصر مشن بیس اگست کے انتخابات میں پڑنے والے تقریباً پندرہ لاکھ ووٹوں میں سے ایک چوتھائی فییصد کو مشکوک قرار دے چکا ہے۔

صدر کرزئی کے قریبی حریف، سابق وزیر خارجہ عبدللہ عبدللہ پر امید ہیں کہ ووٹوں کی دوبارہ گنتی سے انتخابات کے دوسرے مرحلے کی راہ ہموار ہوگی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسا نہ ہونے کی صورت میں حالات کے ذمہ دار دھاندلی کرنے والے ہوں گے۔ادھر صدارتی دوڑ کے تیسرے امیدوار اشرف غنی کے بقول کرزئی اور عبدللہ ایک دوسرے پر بالکل بھی اعتبار نہیں کرتے، صورتحال کا ایک حل دونوں کے درمیان مفاہمت ہے۔

مستقبل کی کابل حکومت کے حوالے سے موجودہ صورتحال کو اوبامہ انتظامیہ کے لئے بھی ایک امتحان تصور کیا جا رہا ہے، جو شورش زدہ ملک میں مزید فوجی دستے بھیجنے کے معاملے پر غور وخوض میں مصروف ہے۔

رپورٹ : شادی خان سیف

ادارت :امجد علی