1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

حامد کرزئی کا قیام امن کے لیے کوششیں جاری رکھنے کا عزم

افغان صدر حامد کرزئی نے امن کونسل کے مقتول سربراہ اور سابق صدر برہان الدین ربانی کی نماز جنازہ کے موقع پر کہا ہے کہ قیام امن کے لیے جاری کوششیں کو دوام بخشا جائے گا۔

default

سابق افغان صدر ربانی کو آج جمعہ کے روز کابل کے وزیر اکبر خان نامی پہاڑی ٹیلے میں سپرد خاک کیا گیا۔ افغانستان میں اپوزیشن رہنما عبد اللہ عبد اللہ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ربانی کی ہلاکت کے بعد اب طالبان سے رابطے فوری طور  پر بند کر دیے جائیں۔ صدر کرزئی نے البتہ آج اپنے خطاب میں اس مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا، ’’شہید (برہان الدین ربانی)کا خون اور آزادی کے دوسرے شہداء کا خون ہم سے مطالبہ کر رہا ہے کہ  ہم اپنی کوششیں اُس وقت تک جاری رکھیں جب تک امن اور استحکام قائم نہیں ہوجاتا۔‘‘

کابل میں آج برہان الدین ربانی کے ہزاروں حامیوں نے ان کی آخری مذہبی رسومات میں شرکت کے دوران حکومت کے خلاف احتجاج کیا۔ مظاہرین نے کابل حکومت اور پاکستان کے خلاف بھی نعرے بازی کی اور سکیورٹی اہلکاروں پر پتھراؤ کیا۔ مشتعل مظاہرین کے ایک رہنما نے لاؤڈ اسپیکر پر خطاب کے دوران کہا، ’’استاد ربانی کے قتل کا بدلہ لیا جائے گا۔‘‘

Afghanistan Staatsbegräbnis für Ex-Präsident Rabbani in Kabul

صدارتی محل کے احاطے میں برہان الدین ربانی کی نماز جنازہ ادا کی گئی

افغانستان میں طالبان سے مصالحت کے لیے تشکیل دی گئی امن کونسل کے اس تاجک نژاد سربراہ کی ہلاکت سے لسانی کشیدگی بڑھنے کے خدشات بھی پیدا ہوئے ہیں۔ کابل میں آج سفارتی علاقے اور دیگر حساس علاقوں میں سڑکیں عام ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بند رکھی گئی تھیں۔ ایک موقع پر مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے سکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے ہوائی فائرنگ بھی کی گئی۔ کابل پولیس کے ایک عہدیدار محمد ظاہر کے بقول نماز جنازہ کے موقع پر شہر میں امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے تین ہزار اضافی اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔

خیال رہے کہ طالبان کی جانب سے فی الحال ربانی کی ہلاکت کی ذمہ داری باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کی گئی۔ افغان خفیہ ادارے، نیشنل ڈائریکٹریٹ آف سکیورٹی کا مؤقف ہے کہ عسکریت پسندوں کی کوئٹہ شوریٰ برہان الدین ربانی کے قتل میں ملوث ہے۔ اس سے متعلق شواہد فی الحال عام نہیں کیے گئے۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: حماد کیانی

DW.COM