1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

حامدکرزئی کی حکومت اور طالبان کی نئی حکمت عملی

افغانستان میں اگر ایک طرف الیکشن کا عمل اپنے انجام کو پہنچ گیا ہے تو دوسری طرف طالبان عسکریت پسندوں نے اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کے اشارے بھی دے دیئے ہیں۔

default

افغان صدر حامد کرزئی : فائل فوٹو

نو منتخب افغان صدرحامد کرزئی کے مخالف امیدوارڈاکٹرعبداللہ عبد اللہ نے نئی کرزئی حکومت کوغیرآئینی قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اندرونِ ملک امن و سلامتی قائم کرنے کی اہل نہیں ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ اِس حکومت کے پاس کوئی ساکھ نہیں ہے اور نہ ہی کسی اتھارٹی کی حامل ہے کیونکہ ایک حکومت، جو غیر قانونی فیصلے کے تحت معرضِ وجود میں آئی ہے، وہ کیسے دستور کے تحت فرائض سرانجام دے گی۔ عبد اللہ عبداللہ نے اپنے تازہ بیان میں اگلی کابینہ میں اپنی شمولیت کو بھی خارج از امکان قرار دیا ہے۔

اُن کا اشارہ حامد کرزئی کے اُس بیان کی جانب تھا، جس میں اُنہوں نے کہا تھا کہ اُن کی نئی کابینہ تمام افغان قومیتوں کی نمائندہ ہو گی۔ ڈاکٹرعبداللہ عبد اللہ نے افغان الیکشن کمیشن کے اعلیٰ عہدے داران کو نہ ہٹائے جانے پر دوسرے مرحلے کے صدارتی الیکشن کا بائیکاٹ کردیا تھا۔

Abdullah Abdullah

مخالف صدارتی امیدوار، عبداللہ عبد اللہ: فائل فوٹو

دوسری جانب افغانستان کو امداد دینے والے تمام ملک کابل حکومت میں بدعنوانی اور کرپشن کے معاملے پر انتہائی پریشانی سے دوچار ہیں۔ امریکہ کے اعلیٰ حکومتی حلقوں میں بھی افغانستان میں تیزی سے پھلنے پھولنے والی بدعنوانی پر خاصی تشویش پائی جاتی ہے۔ اِس حوالے سے جرمن پارلیمنٹ میں گرین پارٹی کے رُکن اور افغانستان میں اقوام متحدہ کے سابق خصوصی مندوب ٹام کوئنگس کا کہنا ہے۔ اِس منسبت سے اقوام متحدہ کے سابق خصوصی مندوب بتاتے ہیں کہ اگر کابل میں عام آدمی سے پوچھا جائے کہ زیادہ بد عنوان کون تھا، طالبان حکومت یا موجودہ حکومت تو ہر شخص یہی کہے گا کہ موجودہ حکومت۔

حامد کرزئی نے اپنی دوسری مدتِ صدارت میں خاص طور پر کرپشن کے خلاف عملی اقدامات کی یقین دہانی کرائی ہے۔ امریکی صدر اوباما نے حامد کرزئی کو صدر منتخب ہونے کے بعد مبارک باد کے فون میں بھی افغان صدر کو مشور دیا تھا کہ وہ کرپشن کے خلاف بھرپور کوشش کریں۔ حامد کرزئی کے بھائی احمد ولی کرزئی کو خاص طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ وہ بطور گورنر قندھار منشیات کے بڑے سمگلروں کے ساتھ گہرے تعلقات

BdT Vernichtung Mohnfeld Afghanistan

افغانستان میں غیر قانونی طور پر اگائی جانے والی پوست بھی عالمی برادری کے لئے ایک بڑا مسئلہ ہے

رکھتے ہیں۔ یہ تعلق سمگلروں کے لئے باعث تقویت ہے۔ اِس دوران افغانستان میں سرگرم طالبان انتہاپسندوں کی نئی حکمت عملی سے بھی نیٹو کی آئی سیف فوج سمیت افغان حکومت کے ایوانوں میں ہلچل پائی جاتی ہے۔ ایک طالبان کارکن نے افغان پولیس میں شمولیت اختیار کرنے کے تقریباً تین سالوں بعد پانچ برطانوی فوجیوں کو فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا ہے۔ اِس واقعہ پر برطانوی وزیراعظم گورڈن براؤن نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اِس کو ایک انتہائی بڑے نقصان سےتعبیر کیا ہے۔ فائرنگ کا یہ واقعہ ہلمند صوبے کے ضلع نادِ علی میں پیش آیا۔ برطانوی فوجی افغان پولیس افسران کے تربیتی عمل کی نگرانی کر رہے تھے۔ طالبان نے اِس کارروائی کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ اگر سرگرم طالبان نے عراقی القاعدہ شدت پسندوں جیسی حکمت عملی کو اپنانے میں تسلسل کا مظاہرہ کیا تو حامد کرزئی حکومت کے ساتھ ساتھ اتحادی فوج کو ایک نئے محاذ کا سامنا ہو گا۔