1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

حالیہ سیلاب آسٹریلوی تاریخ کی بد ترین قدرتی آفت، اقتصادی شعبہ شدید متاثر

حالیہ سیلاب کوآسٹریلیا کی تاریخ کی بد ترین قدرتی آفت قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اقتصادی شعبے کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ کرنے میں سالوں لگ سکتے ہیں۔

default

ایک اندازے کے مطابق آسٹریلیا میں آنے والے سیلاب سے بارہ ہزار مکانات تباہ ہوئے، دو لاکھ افراد چھتوں سے محروم ہیں اور ایک لاکھ سے زائد عمارتیں ایسی ہیں، جہاں ابھی تک بجلی بحال نہیں ہو سکی۔ ماہرین معاشیات کے مطابق اقتصادی اعتبار سے ملک کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس کے ازالے میں ابھی بہت وقت لگے گا۔

آسٹریلیا کے نائب وزیراعظم اور وزیر خزانہ ویئن سوان نے کہا ہے کہ کوئینز لینڈ میں آنے والا سیلاب ملکی تاریخ کی بد ترین قدرتی آفت تھی۔

Australien Überschwemmungen

تعمیر نو کے کاموں پر اٹھنے والے اخراجات تقریباً دس ارب امریکی ڈالر تک ہو سکتے ہیں، ماہرین

سیلاب کی تباہ کاریوں نے فصلوں کو شدید نقصان پہنچایا، جس نے اجناس کی قیمتوں پر اثر ڈالا۔ ویئن سوان کے بقول تعمیر نو کے کاموں پر اٹھنے والے اخراجات کا تخمینہ بہت زیادہ بنتا ہے۔ اس سلسلے میں یقیناً حکومت کو دیگر شعبوں میں بچت کرنا ہو گی، جو کوئی آسان کام نہیں ہے۔

ماہرین کے اندازوں کے مطابق تعمیر نو کے کاموں پر اٹھنے والے اخراجات تقریباً دس ارب امریکی ڈالر تک ہو سکتے ہیں۔ ایک آسٹریلوی اخبار نے لکھا ہے کہ تعمیر نو پر اٹھنے والے اخراجات میں گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اخبار نے مزید لکھا ہے، ’’ملکی تاریخ کے اس بدترین سیلاب نے معیشت پر بہت ہی منفی اثر ڈالا ہے۔ یہ دنوں اور ہفتوں کا کام نہیں ہے بلکہ صورتحال کو معمول پر لانے میں سالوں لگ سکتے ہیں۔‘‘

ماہرین موسمیات کے مطابق شدید بارشوں کے نتیجے میں آنے والے سیلابوں نے آسٹریلیا کے ساتھ ساتھ سری لنکا اور فلپائن میں زرعی اراضی کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اس حوالے سے اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اشیائے خورد و نوش کی قیمتیں پہلے ہی آسمان سے باتیں کر رہی ہیں اوراب ان سیلابوں کی وجہ سے عالمی سطح پران میں مزید اضافہ ہو گا۔ اسی طرح برازیل میں آنے والا سیلاب نہ صرف چھ سو سے زائد افراد کی زندگیوں کو اپنے ساتھ لےگیا بلکہ وہاں بھی کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیں کافی بڑھ گئی ہیں۔

Flash-Galerie Australien Überschwemmungen Flut Auto

کوئینز لینڈ میں آنے والا سیلاب ملکی تاریخ کی بد ترین قدرتی آفت تھی

آسٹریلیا کی چار ریاستوں میں آنے والے اس سیلاب کو 1974ء میں ڈارون میں آنے والے سمندری طوفان اور 2009 ء میں وکٹوریا کے جنگلوں میں لگنے والی آگ سے بھی زیادہ بڑی تباہی قرار دیا جا رہا ہے۔

کوئینز لینڈ کی انتظامیہ نے اس قدرتی آفت سے پہنچنے والے نقصان کی مکمل تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ ساتھ ہی صوبے میں آبی بندوں کی تعمیر اور ڈھانچوں کو بھی دوبارہ سے دیکھا جائے گا۔ مالیاتی اداروں نے خدشہ ظاہرکیا ہے کہ سیلاب سے آسٹریلیا میں افراط زر میں اضافہ ہو سکتا ہے جبکہ اقتصادی ترقی میں بھی نصف تک کی کمی کا امکان ہے۔

کوئینز لینڈ کا شمار آسٹریلیا کے قدرتی وسائل سے مالا مال صوبوں میں ہوتا ہے اور اس سیلاب نے ملک کے تیسرے بڑے شہر برسبین میں سب سے زیادہ تباہی پھیلائی۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس