1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

حالات کا تقاضہ ہے کہ ڈربن میں فیصلے کیے جائیں، زوما

جنوبی افریقہ کے بڑے شہر ڈربن میں تحفظ ماحول سے متعلق اقوام متحدہ کے زیر انتظام ماحولیاتی کانفرنس کا آغاز ہوگیا ہے۔ عالمگیر اہمیت کی حامل اس کانفرنس میں قریب 194 ممالک کے نمائندے شرکت کر رہے ہیں۔

default

بین الاقوامی امدادی، رضا کار اور فلاحی ادارے اس کوشش میں ہیں کہ کوپن ہیگن میں طے پانے والے کیوٹو پروٹوکول پر عملدرآمد کے لیے مزید زور دیا جاسکے۔ ڈربن کانفرنس کے اہم نکات میں گرین کلائمیٹ فنڈ کے لیے مختص رقم کو 100 ارب ڈالر تک لے جانے کی کوشش بھی کی جائے گی۔ ڈربن کانفرنس کے آغاز کے موقع پر جنوبی افریقہ کے صدر جیکب زوما نے شرکاء کو ماحولیاتی تباہیوں کے اثرات سے خبردار کیا۔ جنوبی افریقہ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’ ہم نے حالیہ عرصے کے دوران ساحلی علاقوں میں غیر معمولی اور شدید سیلاب دیکھا، ان کا لوگوں پر براہ راست اثر ہوا، ان کے گھر، روزگار اور تمام محفوظ اثاثے برباد ہوگئے‘‘۔

جیکب زوما نے کانفرنس میں شریک حکومتی نمائندوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حالات اس بات کا تقاضہ کر رہے ہیں کہ حکومتیں یہاں ڈربن میں مسائل کے حل کی کوشش کریں۔ ان کا کہنا تھا، ’’ تبدیلی اور حل ہمیشہ ممکن ہے۔ ڈربن میں ہمارے آج اور کل کے بچاؤ سے متعلق اہم اقدامات اٹھائے جانے چاہیں‘‘۔ خبر رساں اے ایف پی کے مطابق کانفرنس کے افتتاحی روز شرکاء میں اس حوالے سے شکوک وشبہات رہے کہ شاید مالیاتی بحران کے سبب ترقی یافتہ ممالک اور ترقی پزیر ممالک مابین کاربن گیسوں کے اخراج میں کٹوتی کے معاملے پر اختلاف برقرار رہیں اور یوں معاملہ ایک مرتبہ پھر سرد خانے میں چلا جائے۔

Klimakonferenz Durban Südafrika

تبدیلی اور حل ہمیشہ ممکن ہے، جیکب زوما

اقوام متحدہ میں تحفظ ماحول کے ادارے کی نگراں کرسٹینا فیگارس کا کہنا تھا کہ ڈربن میں 12 روزہ مذاکراتی عمل کے ذریعے اس ضمن میں عوام کا اعتماد بحال کرنا ہوگا۔ ’’ اس کانفرنس سے مشکلات میں گِھرے ہوئے لوگوں اور مستقل میں موسمیاتی تبدیلیوں کا نشانہ بننے والوں کو یہ یقین دہانی کرانی ہوگی کہ ان کے محفوظ مستقبل کے لیے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔‘‘ تحفظ ماحول سے متعلق کیوٹو پروٹوکول کی متعدد ممالک نے توثیق کر رکھی ہے جو اس پروٹوکول کے تحت 2012ء کاربن گیس کے اخراج میں کمی جیسے متعدد اقدامات کے پابند ہیں۔

ڈربن میں کوشش کی جائے گی کہ ان ممالک کو مستقبل میں بھی کاربن گیس کے اخراج میں بتدریج کمی کرنے کا پابند بنایا جاسکے۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: شامل شمس

DW.COM