1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’’حالات ابتر، مگر افغان جنگ میں جیت ممکن‘‘

افغانستان میں تعینات امریکی فوج کے اعلیٰ کمانڈر جنرل سٹینلی میک کرسٹل نے کہا ہے کہ طالبان کے خلاف جنگ جیتنے کے لئے حکمت عملی میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔

default

امریکی فوجی کمانڈر نے اپنی رپورٹ میں افغانستان کے اندر سلامتی کی صورتحال کو انتہائی خراب قرار دیا ہے تاہم انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ طالبان عسکریت پسندوں کے خلاف جنگ جیتی جا سکتی ہے۔

Neuer US-Kommandeur in Afghanistan Stanley McChrystal

جنرل سٹینلی میک کرسٹل کے مطابق طالبان کے خلاف جنگ جیتنے کے لئے حکمت عملی میں تبدیلی کی ضرورت ہے

پیر کوافغانستان میں مغربی دفاعی اتحاد کے کمانڈر میک کرسٹل نے کہا کہ افغانستان میں مخدوش سیکیورٹی کی صورتحال پر قابو پانے اور طالبان کے خلاف جنگ میں کامیابی کے لئے یہ ضروری ہے کہ حکمت عملی کو نئے خطوط پر وضع کیا جائے۔ امریکی کمانڈر نے افغانستان کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے تاہم فوجیوں کی تعداد بڑھانے کی طرف کوئی اشارہ نہیں کیا۔

جنرل میک کرسٹل کی رپورٹ امریکہ کے وزیر دفاع رابرٹ گیٹس اور نیٹو کے سیکرٹری جنرل آندرس فوگ راسموسن کو بھی سونپی جائے گی۔

رواں سال اگست کے مہینے میں افغانستان میں طالبان کی طرف سے پر تشدد کارروائیوں میں اتحادی فوجیوں کو کافی جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ یہی وہ صورتحال ہے جس نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو اپنی حکمت عملی میں تبدیلی لانے پر مجبور کردیا ہے۔ امریکی کمانڈر میک کرسٹل کہتے ہیں: "کامیابی اسی صورت میں ممکن ہے جب حکمت عملی میں تبدیلی متعارف کرائی جائے، پوری تندہی سے مسئلے کا حل تلاش کیا جائے اور ایک مشترکہ کوشش کی جائے"۔

اس سے قبل امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے واضح کیا تھا کہ افغانستان میں تعینات فوج میں اضافے کی کوئی گنجائش نہیں۔ ان کے مطابق اس قسم کی تجویز سے افغان باشندوں کو غیر ملکی فوج کی تعداد میں اضافے کا خطرہ محسوس ہوگا اور اتحادی فوج کے خلاف نفرت پیدا ہو سکتی ہے۔ گیٹس کا ماننا ہے کہ فوجیوں کی تعداد میں اضافے کا مطالبہ کرنے سے قبل اس کے لئے پہلے فوجیوں کی دستیابی اور اخراجات کے بارے میں بھی سوچنا ہوگا۔

اس وقت افغانستان میں امریکی کمانڈر سٹینلی میک کرسٹل کی

Flash-Galerie Wahlen in Afghanistan 2009

افغانستان میں تعینات غیرملکی فوجیوں کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے

زیر نگرانی ایک لاکھ تین ہزار فوجی اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں جن میں سے 63 ہزار امریکی شامل ہیں ۔ اتحادی فو جیوں میں سے نصف سے زیادہ اسی سال افغانستان میں پہنچے ہیں۔ اس سال کے آخر تک اتحادی فوج کی تعداد ایک لاکھ دس ہزار جبکہ اس میں شامل امریکی فوجیوں کی تعداد ہزار 68 تک پہنچ جائے گی۔

دوسری جانب 20 اگست کے صدارتی انتخابات کے ابھی تک موصول ہونے والے نتائج میں صدر کرزئی کو تقریباً 46 فیصد ووٹ حاصل ہوئے ہیں جبکہ ان کے حریف عبداللہ عبداللہ کو 33 فیصد۔ انتخابات کے دوران بے ضابطگیوں کی 2500 کے قریب شکایات موصول ہوئی تھیں، جن میں سے پانچ سو سے زائد انتخابی نتائج پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔

رپورٹ: میرا جمال

ادارت: گوہر نذیر گیلانی

DW.COM