1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

حافظ سعید کی گرفتاری پر مظاہرے اور بحث دونوں جاری

حافظ سعید کی نظر بندی پر جہاں ملک کے مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں، وہیں اس بات پر بھی بحث جاری ہے کہ آیا یہ اقدام پالیسی کی تبدیلی ہے یا صرف بین الاقوامی برادری کو مطمئن کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے یہ کام وسیع تر قومی مفاد میں کیا ہے اور یہ تاثر درست نہیں کہ یہ سب کچھ بھارت یا امریکا کے دباؤ کے پیشِ نظر کیا گیا ہے۔ اس مسئلے پر بات چیت کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ (نواز) کے راجہ ظفر الحق نے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر یہ قدم قومی مفاد میں اٹھایا گیا ہے۔ بھارت کا دباؤ تو کئی برسوں سے تھا اگر حکومت کو بھارت کے دباؤ میں یہ کرنا ہوتا تو کیا وہ پہلے ایسا نہ کرتی؟ مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان پر الزام ہے کہ وہ دہشت گردی یا مذہبی انتہا پسندی کی پشت پناہی کرتا ہے۔ ہم اس حوالے سے بین الاقوامی برادری کے خدشات دور کرنا چاہتے ہیں اور اس الزام کو غلط ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ حکومت کو اس بات کا ادراک ہے کہ حافظ سعید عوام میں مقبول ہیں۔ وہ فلاحی کام بھی کرتے ہیں، جس کی وجہ سے بھی بہت سارے لوگ ان کو پسند کرتے ہیں۔ لیکن حکومت کا یہ فرض ہے کہ انہیں وہ ایسے کام سے روکے جنہیں پاکستان کے مفادات کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔‘‘

حافظ سعید کی نظر بندی کے خلاف پاکستان میں احتجاجی مظاہرے

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’حافظ سعید کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں ہے۔ اسی لئے کئی حلقوں میں ان کی نظر بندی پر اشتعال پایا جاتا ہے۔ آج مجھے بھی ایک کانفرنس میں ان کی گرفتاری کے حوالے سے سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا لیکن میں نے مذہبی تنظیموں کی اس کانفرنس میں یہ وضاحت کی کہ حکومت مذہبی عناصر کے خلاف نہیں ہے۔‘‘

کئی تجزیہ نگار بھی حکومت کے اس دعوے کی تائید کرتے ہیں۔ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد سے وابستہ ڈاکڑ بکر نجم الدین نے اس مسئلے پر اپنی رائے دیتے ہوئے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بھارت کے موجودہ جارحانہ رویے کے پیشِ نظر حکومت بھارت کو کیوں خوش کرنا چاہے گی۔ جہاں تک ٹرمپ انتظامیہ کے دباو کی بات ہے تو ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ کیا باقاعدہ طور پر واشنگٹن سے کوئی ایسا بیان جاری ہوا ہے، جس میں حافظ سعید کے خلاف اقدامات کا مطالبہ کیا گیا ہو، تو اس کا جواب آپ کو نفی میں ملے گا۔ ٹرمپ کے لئے پہلے ہی مسائل کم ہیں کہ وہ حافظ سعید کے حوالے سے کچھ سوچے گا۔ مجھے حافظ سعید کا معاملہ ٹرمپ کی ترجیحات کی فہرست میں کہیں نظر نہیں آتا۔‘‘

لیکن حکومت کے ناقدین اسے ایک مصنوعی اقدام ہی قرار دینے پر بضد ہیں۔ وفاقی اردو یونیورسٹی کے سابق پروفیسر ڈاکڑ توصیف احمد نے اس حوالے سے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’حافظ سعید کی گرفتاری ایک مصنوعی قدم ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا مریدکے کا مرکز بند ہوگیا ہے؟ کیا جماعت الدعوہ کے دفاتر پورے ملک میں بند کر دیے گئے ہیں؟ کیا یہ لوگ اپنی سرگرمیاں جاری نہیں رکھے ہوئے ہیں؟ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ حافظ سعید دفتر میں بیٹھ کر کام کریں یا گھر سے۔ یہ ان کے اثاثے ہیں۔ ان کے خلاف کوئی ایکشن کیسا ہو سکتا ہے۔ وہ ابھی عدالتوں میں جائیں گے اور پہلے کی طرح چھوٹ جائیں گے۔ کیونکہ یہ ایک مصنوعی قدم ہے اس لئے ان کے خلاف کوئی سخت رد عمل بھی نہیں ہوگا۔‘‘

جماعت الدعوہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت میں اس گرفتاری پر شدید اشتعال پایا جاتا ہے۔ جے یو ڈی کے ایک رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ڈوئچے ویلے کو بتایا،’’ہمارے لوگوں میں اس گرفتاری پر شدید اشتعال پایا جاتا ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ اقدام بھارتی و امریکی دباو پر کیا گیا ہے، جس کا مقصد انہیں خوش کرنا ہے۔ پورے ملک میں اس گرفتاری کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں۔ آج بھی لاہور اور کراچی میں احتجاج ہوا ہے۔ ابھی اس مسئلے پر مشاورت چل رہی ہے اور جلد ہی اس حوالے سے لائحہ عمل ترتیب دیا جائے گا۔‘‘

DW.COM