1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

حافظ سعید کا دفاع نہیں کریں گے، پاکستان

پاکستانی حکومت نے ایک مقامی عدالت کو بتایا ہے کہ وہ امریکہ میں جاری مقدمے میں کالعدم جماعت الدعوة کے سربراہ حافظ محمد سعید کا دفاع نہیں کر سکتی۔

default

حافظ محمد سعید: فائل فوٹو

حافظ محمد سعید کو سن 2008 میں ہونے والے ممبئی حملوں کے سلسلے میں امریکہ میں جاری ایک مقدمے کا سامنا ہے۔ یہ مقدمہ ممبئی حملوں میں ہلاک ہونے والے یہودیوں کے رشتہ داروں نے دائر کروایا تھا۔

پیر کو ڈپٹی اٹارنی جنرل نسیم کشمیری نے وزارت خارجہ کی جانب سے عدالت میں ایک تحریری جواب داخل کیا۔ لاہور ہائی کورٹ میں جسٹس عمر عطا بندیال کو فراہم کیے گئے جواب میں کہا گیا، ’’پاکستان حکومت امریکی عدالت میں آئی ایس آئی کا دفاع کر رہی ہے کیونکہ یہ ایک سرکاری ادارہ ہے لیکن جماعت الدعوة یا اس کا سربراہ حکومت کا حصہ نہیں ہیں۔ اس لیے حکومت انہیں یا ان کی تنظیم کو قانونی مدد فراہم نہیں کر سکتی۔‘‘

NO FLASH Anschläge Mumbai Indien 2008

ممبئی حملوں میں امریکی شہری یہودی ربی گیبریئل ہولزبرگ اور ان کی اہلیہ روکا بھی ہلاک ہو گئی تھیں

حکومت کا جواب دیکھنے کے بعد جج نے حافظ سعید کے وکیل اے کے ڈوگر سے کہا کہ کوئی ایسا قانون بتائیں، جس کے تحت کورٹ حکومت کو امریکی عدالت میں کسی شخصیت کا دفاع کرنے کی ہدایت دے سکے۔ ڈوگر نے اپنے دلائل تیار کرنے کے لیے وقت مانگا ہے۔ سماعت 30 جون تک کے لیے ملتوی کر دی گئی ہے۔

ممبئی حملوں میں امریکی شہری یہودی ربی گیبریئل ہولزبرگ اور ان کی اہلیہ روکا ہلاک ہو گئی تھیں۔ ان کے خاندان نے بروکلین کی ایک عدالت میں گزشتہ سال مقدمہ دائر کیا تھا۔ امریکی عدالت نے حافظ سعید کے علاوہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے موجودہ اور سابق سربراہان سمیت کئی دیگر افراد کے خلاف سمن جاری کر رکھے ہیں۔

حافظ سعید نے پاکستان کی عدالت میں اپیل کی ہے کہ آئی ایس آئی کی طرح پاکستان حکومت ان کا بھی دفاع کرے۔ ان کی دلیل ہے کہ وہ جماعت الدعوة کے سربراہ ہیں اور لشکر طیبہ سے ان کا کوئی لینا دینا نہیں۔ ممبئی حملوں کے لیے لشکر طیبہ کو ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: ندیم گِل

DW.COM