1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

حادثے کا شکار فرانسیسی طیارہ، 17 لاشیں برآمد

مسافروں کی تلاش میں مصروف برازیلی بحریہ کی مختلف ٹیمز نے کم از کم نو افراد کی لاشیں برآمد کی ہیں جبکہ فرانسیسی ٹیمز نے آٹھ۔ اس طرح حادثے میں ہلاک ہونے والے کل 228 مسافروں میں سے اب تک 17کی لاشیں مل گئی ہیں۔

default

فرانسیسی طیارے کا ملنے والا ملبہ

گزشتہ پیر کو بحراوقیانوس کے اوپر پرواز کے دوران فرانسیسی طیارہ ’ائیر فرانس 447‘ حادثے کا شکار ہوگیا اور اس میں سوار تمام 228 مسافر ہلاک ہوگئے۔ اس حادثے کے بعد کئی سوالات نے جنم لیا۔ جیسے کہ اس حادثے کی اصل وجہ کیا تھی اور مسافروں کی لاشیں کہاں ہیں؟ اب آہستہ آہستہ ایسے کئی سوالات کے جواب ملنا شروع ہوگئے ہیں۔

حادثے کے وقت سب سے بڑا سوال یہ تھا کہ ائیر فرانس کی پرواز 447 میں سوار مسافروں کی لاشیں کہاں گئیں، حادثہ کیسے ہوا اور یہ کہ آخر جہاز کے باقی ماندہ حصّے کہا ں چلے گئے؟ لیکن اب کم از کم اس حادثے میں ہلاک ہونے والے تمام افراد کے لواحقین کو یہ بات معلوم ہوگئی ہے کہ ان کے عزیز و اقارب کہاں اور کن حالات میں جاں بحق ہوئے۔

برازیلی بحریہ کی ٹیمز مزید لاشوں کو پانی سے نکالنے کے عمل میں مصروف ہیں۔ حکام کے مطابق ہلاک شدہ مسافروں کے بارے میں ان کے رشتہ داروں اور لواحقین کو برازیلی دارالحکومت Rio de Janeiro میں تمام اہم معلومات فراہم کی جارہی ہیں۔

Brasilien Frankreich Air France Flug 447 Wrackteile

تلاش کے کاموں میں سرگرم برازیلی ٹیم

تلاشی کے کام میں مصروف مختلف ٹیمز کا کہنا ہے کہ اگرچہ انہوں نے پانی میں جہاز کے بقیہ جات بھی دریافت کئے ہیں تاہم اس وقت سے بڑی ترجیح برازیل کے ساحل کے قریب جزائر سے مسافروں کی لاشیں باہر نکالنا ہے۔

ائیر فرانس کی پرواز 447 میں سوار 228 مسافر اور عملے کے ارکان اس وقت ہلاک ہوگئے جب گزشتہ پیر کو یہ جہاز برازیلی دارالحکومت Rio de Janeiro سے فرانسیسی دارالحکومت پیرس آرہا تھا۔ بدقسمتی سے بحیرہ اوقیانوس کے اوپر پرواز کے دوران اس کا Radar سے رابطہ منقطع ہوگیا اور اس طرح یہ لاپتہ ہوگیا۔

لیکن ائیر فرانس کا یہ طیارہ حادثے کا شکار کیسے ہوا؟ اس سوال کے بارے میں متضاد دعوے سامنے آتے چلے گئے۔ پہلے یہ کہا گیا کہ یہ جہاز بجلی کی وجہ سے حادثے کا شکار ہوگیا ہے۔ حادثے کے بارے میں یہ بھی کہا گیا کہ جہاز کے سینسر پر اس کی رفتار کے بارے میں متضاد معلومات موصول ہورہی تھیں۔

ایسی معلومات کے بعد ائیر فرانس نے اپنے جہازوں کی رفتار کو ماپنے والے آلات کو بدلنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکام نے تاہم ساتھ ہی میڈیا چینلز اور ماہرین کو خبردار کیا ہےکہ وہ وقت سے پہلے اس حادثے کی وجوہات کے بارے میں رائے دینے سے پرہیز کریں۔

رپورٹ : گوہر نذیر گیلانی

ادارت : کشور مصطفیٰ

DW.COM