1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

حادثاتی جنگ سے بچاؤ کا معاہدہ منسوخ: شمالی کوریا

شمالی کوریا نے جمعرات کے روز جنوبی کوریا کے ساتھ حادثاتی جنگ سے متعلق ماضی میں کیا گیا ایک معاہدہ منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ اعلان خطے میں پائی جانے والی کشیدگی میں مزید اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔

default

رواں برس مارچ میں جنوبی کوریا کی بحریہ کا ایک جہاز تباہ ہو کر غرق ہو گیا تھا۔ اس جہاز پر 46 افراد سوار تھے۔ جنوبی کوریا نے اس جہاز کی تباہی اور غرقابی کا الزام پیونگ یانگ پر عائد کیا تھا۔ حال ہی میں ایک بین الاقوامی تفتیش کاروں نے تارپیڈو حملے کو اس جہازکی غرقابی کی وجہ قرار دیا تھا۔ شمالی کوریا ان الزامات کو مسترد کرتا آیا ہے۔

شمالی کوریا کی جانب سے حادثاتی جنگ کی روک تھام کے معاہدے کی تنسیخ کا اعلان شمالی کوریا کے جنرل سٹاف کی جانب سے سامنے آیا ہے۔ پیونگ یانگ فوج نے خبردار کیا ہے کہ اگر جنوبی کوریا نے متنازعہ ’یلو سی‘ سرحد کی خلاف ورزی کی تو وہ فوری طور پر مکمل جنگ کا اعلان کر دے گا۔ شمالی کوریا نے ایک مرتبہ پھر دھمکی دی ہے کہ وہ جنوبی کوریا کے ساتھ جاری، مشترکہ کاروباری منصوبوں کو بھی ختم کر سکتا ہے۔

Streit zwischen Nord- und Südkorea nach einem Schiffsuntergang

سیئول میں شمالی کوریا کے رہنما کے خلاف کئے جانے والے مظاہرہ کا ایک منظر

دریں اثناء جنوبی کوریا کی بحریہ نے یلو سی میں آبدوز شکن مشقیں شروع کر دی ہیں۔ سیئول کی جانب سے پیونگ یانگ پر جہاز کی تباہی کی ذمہ داری عائد کئے جانے کے بعد ان مشقوں کا مقصد اپنی بحری قوت کا مظاہرہ کرنا ہے۔

سیئول میں تقریبا دس ہزار افراد نے شمالی کوریا کے خلاف ایک مظاہرے میں حصہ لیا۔ یہ افراد شمالی کوریا کے رہنما کِم یونگ دوئم کی مخالفت میں نعرے لگا رہے تھے، ان نعروں میں کہا جا رہا تھا ’’ہمارے دشمن کو ختم کر دو‘‘۔

اس سے قبل جنوبی کوریا نے پیونگ یانگ کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ جنوبی کوریا کی جانب سے پیونگ یانگ کے ساتھ تجارتی تعلقات کی منسوخی کے اعلان کے جواب میں شمالی کوریا نے سیئول کے ساتھ تمام معاہدوں کی منسوخی کی دھمکی دی تھی۔

گزشتہ روز امریکی وزیرخارجہ ہلیری کلنٹن نے عالمی برادری سے اپیل کی تھی کہ وہ شمالی کوریا کے اشتعال انگیز اقدامات کا بھرپور جواب دے۔ ادھر روس نے کہا ہے کہ وہ اس وقت تک پیونگ یانگ کے خلاف اٹھائے جانے والے کسی بھی اقدام کا حصہ نہیں بنے گا، جب تک اسے سو فیصد یقین نہ ہو جائے کہ جنوبی کوریا کا جہاز اس نے تباہ کیا تھا۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : سائرہ حسن

DW.COM