1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جے پور کے آخری مہا راجہ انتقال کر گئے

مغربی بھارت کے قدیم شہر جے پور کے آخری مہاراجہ اناسی برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔ ریاست راجستھان اپنے اس آخری مہاراجہ کے انتقال پر دو روز کے سوگ کا اعلان کیا ہے۔

default

طبی حکام کے مطابق مہاراجہ بھوانی سنگھ کے کئی جسمانی اعضاء نےکام کرنا چھوڑ دیا تھا اور یہی ان کے انتقال کی وجہ بھی بنی۔ ان کے قریبی رشتے داروں نے ایک اخبار کو بتایا کہ وہ 29 مارچ سے نئی دہلی میں زیر علاج تھے۔ مہاراجہ سنگھ بھارتی فوج میں بریگیڈیئر کے عہدے پر بھی فائز رہے ہیں اور ریاست میں انہیں ایک ہیرو کا درجہ حاصل تھا۔ انہوں نے برطانیہ میں بھی تعلیم حاصل کی اور وہ پولو کے ایک مشہور کھلاڑی بھی رہے ہیں۔

بھارت میں ریاست راجستھان اور اس سے ملحقہ علاقے اپنی تاریخی حیثیت کے حوالے سے ایک خاص شہرت رکھتے ہیں۔ اسی وجہ سے دنیا بھر سے ہر سال لاکھوں کی تعداد میں سیاح ان علاقوں کا رخ کرتے ہیں۔1947ء میں برطانیہ سے آزادی کے بعد جے پور کا شمار بھارت کی ان چھوٹی ریاستوں میں ہوتا تھا، جہاں شاہی نظام رائج تھا۔ یہاں راجہ، مہاراجہ نظام سلطنت چلایا کرتے تھے۔

BdT Indische Kamelhändler

ہر سال لاکھوں سیاح ریاست راجستھان کا رخ کرتے ہیں

بھوانی سنگھ 1970ء میں اپنے والد کی موت کے بعد جے پور کے مہاراجہ بنے تھے۔ اس کے صرف ایک سال بعد ہی یعنی1971ء میں بھارتی حکومت نے شاہی خطابات منسوخ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ بھوانی سنگھ کا تعلق راجپوت نسل سے تھا۔ راجپوت جنگجوکہلاتے ہیں اور اس نسل کے زیادہ تر افراد میں فوج میں جانے کا رجحان بہت زیادہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھوانی سنگھ سے فوج سے منسلک رہے۔1971ء میں پاکستان کے خلاف ہونے والی جنگ میں ان کی خدمات کے بدلے میں نئی دہلی حکومت نے انہیں بھارت کے سب سے بڑے فوجی اعزاز ’مہاویر چکرا‘ سے نوازا تھا۔

بھوانی سنگھ نے بھارت کے اعلٰی تعلیمی اداروں کے علاوہ برطانیہ کے Harrow اسکول سے بھی تعلیم حاصل کی۔ اس کے علاوہ وہ 1993ء میں برونائی میں بھارت کے سفیر کے عہدے پر فائز بھی رہے ہیں۔ پیر کے روز جے پور کے آخری مہاراجہ بھوانی سنگھہ کی آخری رسومات پورے فوجی اعزاز کے ساتھ ادا کی گئیں۔ بھوانی سنگھ نے سوگواروں میں اہلیہ پدمنی دیوی اور بیٹی دیا کماری کو چھوڑا ہے۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت : امجد علی

DW.COM

ویب لنکس