1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

جے سوریہ نے سیاسی اننگز کا آغاز کردیا

کرکٹ کے میدان میں بولرز کے چھکے چھڑانے کے لئے مشہور سری لنکن کرکٹر سنتھ جے سوریہ اب پارلیمانی رکن بن گئے ہیں۔ یوں جے سوریہ نے سیاست کے میدان میں بھی اپنے جلوے دکھائے۔

default

آل راوٴنڈر جے سوریہ نے اپنے ملک کے شمالی ضلع متارا کے پارلیمانی حلقے سے شاندار کامیابی حاصل کی۔ سری لنکا کے حالیہ عام انتخابات میں ان کے حق میں تقریباً 75 ہزار ووٹ پڑے۔ جے سوریہ نے یہ انتخابات حکمران اتحاد ’یونائیٹڈ پیپلز فریڈم پارٹی الائنس‘ کے ٹکٹ پر لڑا۔ جے سوریہ انتخابی عمل اور ووٹنگ کے دوران ملک میں موجود نہیں تھے کیونکہ وہ ان دنوں انڈین پریمیئر لیگ میں ممبئی انڈینز کی ٹیم کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

ایک خصوصی رعایت کے تحت سری لنکا کے انتخابی کمیشن نے عالمی شہرت کے حامل اس کرکٹر کو انتخابات سے ایک دن قبل ہی اپنا ووٹ ڈالنے کی اجازت دے دی تاکہ وہ بھارت میں جاری کرکٹ لیگ میں اپنے کھیل پر توجہ دے سکیں۔

یوں تو چالیس سالہ کرکٹر جے سوریہ سیاست میں بالکل نئے ہیں تاہم انہوں نے کرکٹ کی طرح سیاسی میدان میں بھی دھماکے دار اور ہنگامہ خیز آغاز کیا ہے۔ جارحانہ بیٹسمین کو یقین ہے کہ وہ کھیل کو سیاست سے الگ رکھنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

جے سوریہ ٹیسٹ کرکٹ کو خیرباد کہہ چکے ہیں تاہم انہیں ٹوئنٹی ٹوئنٹی کے عالمی کپ کے سکواڈ میں شامل کر لیا گیا ہے۔ ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ کا عالمی کپ رواں ماہ کی 30 تاریخ سے ویسٹ انڈیز میں شروع ہو رہا ہے۔

Wahlen in Sri Lanka

جے سوریہ کے حق میں تقریباً 75 ہزار ووٹ پڑے

سری لنکا میں مسلح تامل باغیوں کی تحریک کے خاتمے کے بعد یہ پہلے پارلیمانی انتخابات تھے۔ پارلیمانی الیکشن میں ملک کے ایک اور کرکٹر اور سابق کپتان ارجُنا رانا ٹنگے نے بھی حصہ لیا۔ رانا ٹُنگے نے اپوزیشن کے اتحاد ’نیشنل ڈیموکریٹک الائنس‘ کی طرف سے پارلیمانی امیدوار کی حیثیت سے یہ انتخابات لڑے۔

جے سوریہ 110 ٹیسٹ اور 444 ون ڈے میچوں میں سری لنکا کی نمائندگی کر چکے ہیں۔ انہوں نے ٹیسٹ میچوں میں 14 سنچریوں کی مدد سے تقریباً سات ہزار جبکہ ایک روزہ میچوں میں 28 سنچریوں کی بدولت تقریباً ساڑھے تیرہ ہزار رنز بنا رکھے ہیں۔ وہ 322 ون ڈے وکٹیں اور 98 ٹیسٹ وکٹیں بھی حاصل کر چکے ہیں۔

جے سوریہ کو یہ منفرد اعزاز حاصل ہے کہ وہ ٹیم میں بطور سپن بولر آئے لیکن دنیائے کرکٹ میں جارحانہ اوپننگ بیٹسمین کی حیثیت سے اپنا نام روشن کر گئے۔ انہوں نے 1996ء کے عالمی کپ میں ’پنچ ہٹنگ‘ کے ذریعے اپنی ٹیم کو جیت دلانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

سری لنکن کرکٹر آجکل قومی سلیکٹرز کے فیورٹ نہیں ہیں تاہم انہیں اپنی صلاحیتوں پر پختہ یقین ہے کہ وہ 2011ء کے ورلڈ کپ کے سکواڈ میں جگہ بنانے میں بھی کامیاب ہوجائیں گے۔

رپورٹ: گوہر نذیر گیلانی

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM