1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جی 20 ہی عالمی اقتصادی معاملات کا اہم ترین فورم ہے، وائٹ ہاؤس

وائٹ ہاؤس کے نے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پٹسبرگ میں جاری اس کانفرنس میں شریک سربراہان نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ بین الااقوامی اقتصادی تعاون کے لئے جی ٹوئینٹی کی تنظیم ہی اب سب سے اہم کردار ادا کرے گی۔

default

امریکی شہر پٹسبرگ میں جی ٹوئینٹی سربراہ کانفرنس کا آج دوسرا اور آخری دن ہے۔ اسی دوران وائٹ ہاؤس نے ایک بیان جاری کیا ہے، جس کے مطابق اس کانفرنس میں شریک دنیا کے بیس بڑے صنعتی ممالک کے سربراہان نے، جی ٹوئنٹی کی تنظیم کو عالمی اقتصادی معاملات کا سب سے اہم فورم قرار دینے پر اتفاق کرلیا ہے۔

’’اس فیصلے سے ترقی پذیر مگر ابھرتے ہوئے صنعتی ممالک کو تعاون کے حوالے سے بات چیت کرنے، معیشتوں کو بہتر بنانے، عالمی معیشت میں توازن پیدا کرنے، اقتصادی نظام میں اصلاحات لانے اور اپنے اپنے ممالک میں غربت کو ختم کرنے کا موقع ملے گا۔‘‘

Timothy Geithner vor Start des G-20 Gipfels in Pittsburgh

امریکی وزیر خزانہ ٹموتھی گیتھنر

وائٹ ہاؤس نے یہ بیان اس وقت جاری کیا ہے جب جی ٹوئینٹی ممالک کے سربراہان ایک بند کمرے میں بات چیت میں مصروف ہیں۔ جی ٹوئینٹی سے قبل جی ایٹ کی تنظیم عالمی معاشی نظام کے لئے نئی پالیسیاں بناتی تھی۔ جی ایٹ میں امریکہ، فرانس، کینیڈا، برطانیہ، اٹلی، روس، جرمنی اور جاپان شامل ہیں۔ تاہم گزشتہ سال کے عالمی مالیاتی بحران اور چین، بھارت اور برازیل کی معیشیوں میں بہتری کے آثار سے عالمی معیشت کا توازن ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے مابین اب بہتر ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

پٹسبرگ میں امریکی وزیر خزانہ ٹموتھی گیتھنر نے اس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’’ ہم موجودہ عالمی مالیاتی بحران سے نمٹے بغیر چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ ہم اس بحران کا حل نکالے بغیر نہیں رہ سکتے، اس کی وجوہات کو ایسے ہی نہیں چھوڑ سکتے۔‘‘

ذرائع کا کہا ہے کہ پٹسبرگ میں جاری اس کانفرنس میں بینکروں کے بونسسز کے معاملے کو بھی اٹھایا گیا اور جی 20 سربراہان نے اب یہ طے کیا ہے کہ مذکورہ بوننسز کو اب کم سے کم کر دیا جائے گا اور بینکروں کو یہ بونس ان کی کمپنی کے ریونیو کے مطابق ایک خاص فیصد تک ہی دیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ عالمی مالیاتی بحران سے نمٹنے کے لئے جو جو ممالک اپنی معیشتوں کو بچانے اور سنبھالنے کے لئے ملکی خزانے سے سرمایہ لگا رہے ہیں، ان کا بھرپور ساتھ دیا جائے گا۔

چین کے سرکاری بینک کے ایک عہدے دار ژی ڈو نے اس موقع پر صحافیوں کو بتایا کہ اس کانفرنس میں آئی ایم ایف میں اصلاحات کے معاملے پر ترقی پذیر ممالک کی رائے کے حوالے سے بھی فیصلہ متوقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی مالیاتی اداروں میں ترقی پذیر ممالک کی نمائندگی بالکل نہ ہونے کے برابر ہے، اس لئے آئی ایم ایف کی ووٹنگ کے حوالے سے فیصلہ کیا جانا بہت ضروری ہے۔

اس موقع پر پٹسبرگ شہر کے چند علاقوں میں اقتصادی عالمگیریت کے مخالف بہت سے مظاہرین کی طرف سے احتجاجی مظاہرے بھی کئے گئے۔ آج پولیس ایک اور بڑے مظاہرے سے نمٹنے کی تیاریاں کر رہی ہے۔

رپورٹ: انعام حسن

ادارت: امجد علی