1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جی 20 اجلاس سے قبل انگیلا میرکل اور گورڈن براؤن کی ملاقات

ترقی یاقتہ اور تیزی سے ترقی کی طرف گامزن ، جی 20 ممالک گروپ کا اجلاس اگلے ماہ لندن میں منعقد ہو گا۔ اس سربراہی اجلاس کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔

default

جرمن چانسلر اور برطانوی وزیر اعظم

جرمن چانسلر انگیلا میرکل کا آج سے شروع ہونے والا دورہ برطانیہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ ساتھ ہی اقتصادی بحران کے حوالے سے تمام ترکوشوں کے باوجود بھی اہم اقتصادی طاقتوں کے درمیان ابھی کسی ایک نکتے پر اتفاق رائے نظر نہیں آرہا۔

اگلے ماہ لندن میں جی 20 ممالک کے سربراہی اجلاس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہےکہ جرمن چانسلر کے دورہ برطانیہ کے دوران جی 20 ممالک کے وزرائے مالیات بھی ایک دوسرے سے ملاقات کرنے والے ہیں۔ ساتھ ہی اس کانفرنس کے حوالے سے برطانیہ کے خصوصی مندوب Lord Mallcon Brown بھی گذشتہ کئی ہفتوں سے دنیا کے مختلف ممالک کا دورہ کر رہے ہیں۔ ان کے دوروں کا مقصد اپریل میں ہونے والی سربراہی کانفرنس کی کامیاب بنانا ہے۔

’’یہ ایک اہم آزمائش ثابت ہو گی۔ یہ کانفرنس اسی وقت کامیاب کہلائے گی کہ جب عالمی پریس کے ذریعے اس میں کئے جانے والے فیصلوں کو سنجیدہ اورمعنی خیز سمجھا جا سکے۔اگر ایسا نہیں ہوا تو ایک مربتہ پھر منڈیاں بحران کا شکار ہو جائیں گی اور نتائج ہم سب کو بھگتنا پڑیں گے۔‘‘

دوسری جانب آج جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے شہر میونخ میں جرمنی کے اقتصادی شعبے سے تعلق رکھنے والی انجمنوں کے اعلی عہدیداروں سے بات کرتے ہوئے، حکومت سے ایک نئے امدادی پیکج کے مطالبے کومسترد کر دیا۔ میرکل نے کہا کہ حکومت اس سلسلے میں پہلے ہی بہت سے اقدامات اٹھا چکی ہے۔

’’ہم اپنے امدادی پیکجز کی مدد سے 2009 اور 2010 میں یورپی کمیشن کی ہدایت کے مطابق مجموعی داخلی پیداوار کا چار اعشاریہ سات فیصد استعمال میں لائیں گے۔ یہ اقدامات اور استحکام پیدا کرنے والے خود کار عوامل ، جرمنی میں کار گر ثابت ہوں گے‘‘۔

میرکل نے مزید کہا کہ اقتصادی شعبے میں جرمنی کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ گذشتہ دنوں امریکہ کی نئی انتظامیہ نے ترقی یاقتہ ممالک سے ایک نئے اقتصادی پیکج کا مطالبہ کیا تھا۔ یورپی ممالک کے برعکس امریکہ اور جاپان کا مطالبہ ہے کہ معیشت کو دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے لئے مزید رقم خرچ کی جانی چاہیے۔ بہرحال اب دیکھنا یہ ہے کہ اپریل میں ہونے والی ترقی یافتہ اور ترقی کی دہلیز پرکھڑے ممالک کی سرابراہی کانفرنس، اس اختلاف رائے کو دور کرنے میں کس حد تک کامیاب ہوتی ہے۔