1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جی ٹونٹی کانفرنس، اہم فیصلے متوقع

فرانسیسی شہر ’کَن‘ میں اسی ماہ جی ٹوئنٹی سربراہی کانفرنس منعقد ہو رہی ہے۔ ’کن ‘ میں عالمی کرنسی کے نظام کی نگرانی اور قیاس آرائیوں پر مبنی کموڈیٹی ٹریڈنگ کے موضوع پر بات کی جائے گی۔

default

تین سال قبل امریکی سرمایہ کاری بینک لیہمن برادرز کے دیوالیہ ہونے کے بعد فرانس میں اپنی نوعیت کا یہ چھٹا اجلاس ہے۔ 2008ء میں لیہمن برادرز کے دیوالیہ ہونےکے ساتھ ہی اس کے اثرات دنیا بھر کی مالی منڈیوں پر محسوس کیے جانے لگے تھے۔ اس شعبے کے ماہرین نے فوری طور پر ترقی یافتہ ممالک کی جانب دیکھنا شروع کیا۔ کہتے ہیں کہ اگر اس وقت فوری طور پر جی ٹونٹی کا سربراہی اجلاس بلا لیا جاتا اور سنجیدگی سے اس موضوع پر بات کی جاتی تو مالیاتی بحران اس قدر شدید نہ ہوتا۔ اس وقت جی ٹونٹی کا وجود تو تھا لیکن صرف وزرائے مالیات کی سطح پر۔ بہرحال اس ہنگامی صورتحال نے ترقی یافتہ اور ترقی کی دہلیز پر کھڑے ان بیس ممالک کو ایک دوسرے کے مزید نزدیک کر دیا۔

2009ء میں واشنگٹن میں 50 اقدامات طے کیے گئے، جن پر فوری طور پر عمل درآمد کیا جانا تھا۔ اس کے چھ ماہ بعد اپریل 2009ء میں لندن میں اسی نوعیت کا ایک اور اجلاس ہوا۔ اس میں جی ٹونٹی میں اصلاحات کے عمل کو مزید تیز کرنے کے لیے منصوبہ بندی کی گئی۔

Großbritannien G20 Gipfel Treffen London Finanzminister

لندن اجلاس میں جی ٹونٹی میں اصلاحات کے عمل کو مزید تیز کرنے کے لیے منصوبہ بندی کی گئی

اس وقت کے برطانوی وزیراعظم گورڈن براؤن نے کہا تھا کہ مالیاتی نظام کو قابو میں رکھنا بہت ضروری ہے اور ٹیکس چوروں کو ناپسندیدہ افراد کی فہرست میں شامل کرنا ہو گا۔ ان کے بقول ’’ آج کے دن عالمی سطح پر ہونے والی کساد بازاری کا مقابلہ کرنے کے لیے دنیا متحد ہو گئی ہے۔ صرف زبانی طور پر نہیں بلکہ باقاعدہ ایک منصوبے کے ساتھ ‘‘۔

اس کے چھ ماہ بعد یعنی ستمبر 2009ء میں امریکہ جی ٹونٹی اجلاس کی میزبانی کر رہا تھا۔ اس موقع پر امریکی صدر باراک اوباما کا کہنا تھا، ’’میں نے چھ ماہ قبل کہا تھا کہ لندن کانفرنس مالیاتی شعبےکے حوالے سے ایک اہم موڑ ثابت ہو گی۔ یہاں پٹسبرگ میں اقتصادی شعبے کو مزید سہارا دینے کے مزید فیصلے کیے جائیں گے‘‘۔

اسی طرح 2010ء میں بھی دو جی ٹونٹی سربراہی اجلاس ہوئے۔ پہلا ٹورانٹو اور دوسرا جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول میں۔ بہرحال اس حوالے سے یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ مالیاتی شعبے میں کی جانے والی اصلاحات کی وجہ سے کافی بہتری آئی ہے۔ لیکن امریکہ اور یورپ کے طاقتور بینک لابسٹ اس حوالے سے مزید سخت ضوابط لاگو کرنے کی مخالفت کر رہے ہیں۔ تاہم اقتصادی شعبے کے مسائل وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔ اب بات یونان، پرتگال، آئرلینڈ اور اسپین سے آگے بڑھتے ہوئے اٹلی تک پہنچ گئی ہے۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت: حماد کیانی

DW.COM