1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جی ٹوئٹنی: یہ سیاہ بلاک کیا ہے؟

ہیمبرگ میں ہونے والے جی ٹوئنٹی سربراہ اجلاس دوران ہنگامہ آرائی میں ملوث بائیں بازو کے سخت گیر موقف رکھنے والے سرگرم افراد خود کو ’بلیک بلاک‘ یا سیاہ بلاک کے نام سے پکارتے ہیں۔ یہ چند سو افراد آج کل شہ سرخیوں میں ہیں۔

ہیمبرگ میں جی ٹوئنٹی اجلاس کے دوران پولیس کے ساتھ ہونے والے تصادم میں سیاہ لباس، سیاہ ہیٹ اور سیاہ ڈھاٹے باندھے مظاہرین واضح طور پر دکھائے دے رہے ہیں۔ بلیک بلاک کی سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے ہی کہا جا رہا کہ یہ کوئی منظم گروپ نہیں بلکہ احتجاج کا ایک انداز ہے۔

جمعے کو یہ سربراہ اجلاس شروع ہوتے ہی سیاہ بلاک کے یہ افراد مظاہرین میں شامل ہو گئے اور اس دوران انہوں نے سڑکیں اور پلوں کی ناکہ بندی بھی شروع کر دی۔ اس سے قبل یعنی جمعرات کی شب نقاب پہنے ہوئے ان افراد نےسلامتی کے اداروں کے اہلکاروں پر شیشے کی خالی بوتلیں پھینکیں اور چند گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا۔

 

ویڈیو دیکھیے 01:20

جی ٹونٹی اجلاس: ہیمبرگ میں شدید جھڑپیں

 

 

 

یہ بلیک بلاک ہیں کون؟

بلیک بلاک عام طور پر سخت گیر موقف رکھنے والے بائیں بازو کے افراد ہیں اور ان میں انارکسٹ یا افراتفری پھیلانے والے بھی شامل ہیں۔ یہ باقاعدہ کوئی منظم تنظیم تو نہیں۔ تاہم انہوں نے مظاہروں کے لیے یہ لبادہ اوڑھ رکھا اور شناخت پوشیدہ رکھنے کے لیے سیاہ نقاب کے پیچھے اپنے چہرے چھپائے ہیں۔  یہ لوگ سرمایہ دارانہ نظام کا خاتمہ چاہتے ہوئے ایک ایسے آزادانہ نظام کے حامی ہیں، جس میں پیسے اور حکومت کے پاس کوئی اختیار نہیں ہو گا۔

اس تحریک کا آغاز 1980ء کی دہائی میں مغربی جرمنی میں جوہری توانائی کے خلاف مظاہروں سے ہوا تھا۔ 2007ء میں جرمن شہر روسٹاک میں جی آٹھ سربراہ اجلاس میں بلیک بلاک کے ساتھ جھڑپوں میں چار سو پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے۔

 

 

DW.COM

Audios and videos on the topic