1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جی ٹوئنٹی سمٹ کا پہلا دن: ’اکثر رہنما آزادانہ تجارت پر متفق‘

جرمن شہر ہیمبرگ میں جمعہ سات جولائی کو شروع ہونے والی جی ٹوئنٹی کی دو روزہ سربراہی کانفرنس کے پہلے روز سمٹ میں شریک اکثر عالمی رہنماؤں نے بین الاقوامی سطح پر آزادانہ اور منصفانہ تجارت کی ضرورت سے اتفاق کیا۔

default

ہیمبرگ میں جی ٹوئنٹی سمٹ کے شرکاء میزبان رہنما انگیلا میرکل کے ساتھ

شمالی جرمنی کی شہری ریاست ہیمبرگ سے جمعے کی شام ملنے والی نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق کل ہفتہ آٹھ جولائی کی سہ پہر اپنے اختتام کو پہنچنے والی اس سربراہی کانفرنس کے پہلے روز کے اختتام پر جرمن چانسلر اور اس اجتماع کی میزبان رہنما انگیلا میرکل نے کہا کہ پہلے دن دنیا کی ترقی یافتہ اور ترقی کی دہلیز پر کھڑی معیشتوں کے بیس میں سے اکثر رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ عالمی سطح پر تجارت کو زیادہ آزادانہ اور منصفانہ خطوط پر استوار کرنے کی ضرورت ہے۔

جی ٹوئنٹی ہے کیا؟ ایک تعارف

جی ٹوئنٹی اجلاس اس بار غیر معمولی اہمیت کا حامل کیوں ہے؟

جی ٹوئنٹی گروپ کے سربراہان مملکت و ریاست کا دو روزہ اجلاس

پہلے دن کی کارروائی کے اختتام پر جرمن چانسلر میرکل نے ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہا، ’’اکثر رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ عالمی تجارت زیادہ آزادانہ اور منصفانہ ہونی چاہیے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس سمٹ کے اختتامی اعلامیے پر کام کرنے والے ماہرین کو آج رات دیر گئے تک کام کرنا ہو گا۔‘‘

چانسلر میرکل نے مزید کہا کہ سمٹ کے چند شرکاء نے اختلافی رائے کا اظہار بھی کیا اور اس حوالے سے اختلاف رائے کو اتفاق رائے میں بدلنے کی کوششیں جاری رہیں گی۔

روئٹرز کے مطابق اس کانفرنس کے بارے میں خدشہ تھا کہ اس میں شریک دنیا کی سب سے بڑی معیشت کے رہنما یعنی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اقتصادی حفاظت پسندی کی سوچ اور تحفظ ماحول سے متعلق ان کی پالیسی کے باعث امریکی صدر باقی ماندہ شرکاء سے الگ تھلگ ہو کر رہ جائیں گے۔ تاہم ایسا نہیں ہوا۔

Deutschland Hamburg - G20 mit Angela Merkel

گروپ فوٹو سے پہلے چند شرکاء کا گپ شپ کا ہلکا پھلکا انداز

G20 Gipfel in Hamburg | Trump & Jinping & Merkel

جرمن چانسلر میرکل چینی صدر شی جن پنگ، درمیان میں، اور امریکی صدر ٹرمپ، بائیں، کے ساتھ

سمٹ کے پہلے دن کے اختتام پر جرمن سربراہ حکومت نے کہا، ’’تجارت کے بارے میں تقریباﹰ سبھی رہنماؤں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ عالمی تجارت کو زیادہ آزادانہ اور منصفانہ ہونا چاہیے۔ میں صرف اتنا ہی کہہ سکتی ہوں کہ اختتامی اعلامیے میں تجارت کے حوالے سے شرکاء کے مشترکہ موقف سے متعلق آج رات دیر گئے تک کام کیا جائے گا۔‘‘

جی ٹوئنٹی سمٹ کے ایجنڈے میں آزاد اور منصفانہ تجارت کہاں؟

جی ٹوئنٹی اجلاس:کامیابی کے لیے چین کا تعاون کیوں ضروری؟

انگیلا میرکل نے یہ اعتراف بھی کیا کہ سمٹ کے پہلے دن شرکاء کے مابین جو بحث ہوئی، وہ بہت بھرپور تھی۔ ’’میں اس بات سے انکار نہیں کر سکتی کہ یہ بحث بہت ہی مشکل بھی تھی۔‘‘

جرمن چانسلر کے بقول کانفرنس کی پہلے دن کی کارروائی کے پہلے نصف حصے میں امریکی صدر ٹرمپ نے ماحولیاتی سیاست سے متعلق اپنی اختلافی پالیسی کے باوجود اس نشست میں شرکت کی اور بحث میں حصہ لیا۔

کل ہفتہ آٹھ جولائی کو اس کانفرنس کا دوسرا اور آخری دن ہو گا، جس کے اختتام پر ایک مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا جائے گا۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات