1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جی ٹوئنٹی سمٹ:اختلافی معاملات اور سمجھوتے کا امکان

جرمنی کی میزبانی میں ہونے والی جی ٹوئنٹی سمٹ کا آج آخری دن ہے۔ اس دو روزہ اجلاس میں مشترکہ سمجھوتے کے لیے سفارتی کوششیں زورشور سے جاری ہیں۔

دنیا کے بیس ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے سربراہان کے ہیمبرگ میں جمع ہیں۔ سفارتی ذرائع کے مطابق اس سمٹ کے آخری روز کسی مشترکہ سمجھوتے کو طے کرنے کی کوششیں اپنے عروج پر ہے۔ وزارتی سطح پر مشکل معاملات کے لیے درمیانی راہ تلاش کرنے پر غور و خوص ہو رہا ہے۔

یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ سربراہ اجلاس میں شریک لیڈران کئی اہم معاملات پر مشترکہ رائے نہیں رکھتے اور ایسے میں کسی سمجھوتے کا امکان قدرے مشکل دکھائی دے رہا ہے۔ اِس کانفرنس کا ایک نزاعی موضوع پیرس کلائمٹ ڈیل میں تسلسل پیدا کرنا ہے۔ عالمی تجارت بھی ایک دوسرا اختلافی مسئلہ ہے۔ ان دونوں معاملات پر یورپی ممالک، چین اور امریکا اپنا اپنا موقف رکھتے ہیں۔

G20 Gipfel in Hamburg | Trump & Jinping & Merkel (Reuters/K. Nietfeld)

جی ٹوئنٹی سمٹ میں جرمن چانسلر انگیلا میرکل، چینی و امریکی صدور شی جنگ پنگ اور ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی پیرس کلائمٹ ڈیل سے علیحدگی کا اعلان کر چکے ہیں۔ سابق امریکی صدر باراک اوباما نے اس ڈیل کی توثیق کی تھی۔ اٹلی میں رواں برس ترقی یافتہ ملکوں کے گروپ جی سیون کے اجلاس میں بھی ٹرمپ نے بقیہ لیڈران سے مختلف موقف اپنایا تھا۔

آج کانفرنس کے اختتامی دن لیڈران جن معاملات کو زیر بحث لائیں گے، اُن میں مہاجرین کا بحران، ہیلتھ کیئر اور افریقہ میں اقتصادی ترقی کے ممکنہ عملی اقدامات شامل ہیں۔

جرمن چانسلر انگیلا میرکل پہلے ہی اس کانفرنس کے دوران ہونے والے مذاکرات کو انتہائی مشکل قرار دے چکی ہیں۔ اس تناظر میں خیال کیا گیا ہے کہ مشترکہ اعلامیہ کے لیے بھی مذاکرات کا عمل مشکل ہو سکتا ہے۔ مشترکہ اعلامیے کے انتہائی مشکل موضوعات تجارت اور کلائمٹ خیال کیے جا رہے ہیں اور ان پر الفاظ کا چناؤ بھی بہت مشکل مرحلہ محسوس کیا جا رہا ہے۔

ملتے جلتے مندرجات