1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جی سیون سمٹ تاریخی تقسیم کا شکار، ٹرمپ کا راستہ سب سے جدا

سات بڑی عالمی قوتوں کی سمٹ میں دہشت گردی سے نمٹنے کے معاملے پر اتفاق رائے دیکھا گیا۔ عالمی تجارت کے معاملے پر ٹرمپ نے کچھ لچک دکھائی لیکن تحفظ ماحول سے متعلق امریکا کا موقف سب سے الگ رہا۔

امریکی صدر ٹرمپ ہفتہ ستائیس مئی کے دن دو روزہ جی سیون سمٹ کے اختتام کے بعد اٹلی سے واپس امریکا روانہ ہو گئے۔ دنیا کی سات بڑی طاقتوں (جی سیون) کی سمٹ میں دہشت گردی کے خلاف جنگ، عالمی تجارت اور تحفظ ماحول کے موضوعات نمایاں رہے۔ اٹلی کی خواہش کے باوجود مہاجرت کا موضوع اس سمٹ میں نمایاں توجہ حاصل نہ کر پایا۔

جی سیون سمٹ میں اختلافات، ٹرمپ اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے

ٹرمپ جی سیون سمٹ میں شریک، دہشت گردی کا معاملہ سرفہرست

جی سیون سمٹ میں امریکا کے علاوہ باقی تمام ممالک کے مابین تحفظ ماحول کے موضوع پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا پیرس کے عالمی ماحولیاتی معاہدے میں اپنی شمولیت برقرار رکھنے کے بارے میں ابھی تک غور کر رہا ہے۔ اجلاس کے بعد انہوں نے حسب معمول ٹوئٹر پر ایک پیغام جاری کیا، جس میں ان کا کہنا تھا کہ وہ اس معاملے سے متعلق اپنا فیصلہ اگلے ہفتے کریں گے۔

ویڈیو دیکھیے 01:47

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے جی سیون سمٹ کے دوران تحفظ ماحول سے متعلق مذاکرات کو ’انتہائی غیر تسلی بخش‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا، ’’ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا کہ امریکا پیرس کے عالمی ماحولیاتی معاہدے میں آئندہ بھی شامل رہے گا یا نہیں۔‘‘

میرکل کے مطابق پیرس معاہدہ انتہائی اہم ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔ ان کا مزید کہنا تھا، ’’پیرس معاہدہ کوئی عام معاہدہ نہیں ہے بلکہ یہ موجودہ دور میں عالمگیریت کی ہیئت تشکیل دینے میں کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔‘‘

امریکا اور چین سے دنیا بھر میں سب سے زیادہ کاربن گیسیں فضا میں خارج ہوتی ہے جس سے عالمی ماحول اور کرہ ارض کے درجہ حرارت پر شدید اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ گزشتہ برس پیرس میں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام ایک عالمی ماحولیاتی معاہدہ طے پا گیا تھا۔ تاہم ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد ایسی کئی اقدامات کیے ہیں، جن میں امریکی کمپنیوں کو کاربن گیسیوں کے اخراج میں رعایت دے دی گئی ہے۔

انگیلا میرکل کے برعکس نومنتخب فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں اس سمٹ میں مایوس دکھائی نہ دیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ ’سننے کی صلاحیت‘ رکھتے ہیں اور انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ امریکا پیرس معاہدے میں شامل رہے گا۔

اطالوی جزیرے سسلی میں تاؤرمینا کے مقام پر ہونے والی جی سیون سمٹ میں ایک بہت اہم موضوع عالمی تجارت بھی رہا۔ اس معاملے پر بھی ٹرمپ کا نقطہ نظر باقی ممالک سے مختلف دکھائی دیا۔ تاہم سمٹ کے اختتام پر جاری کردہ ایک چھ صفحاتی اعلامیے میں ٹرمپ کو لچک دکھانا پڑی۔

اعلامیے میں عالمی تجارتی معاملے میں ’پروٹیکشن ازم‘ کو رد کرنے پر اتفاق کیا گیا جو کہ ٹرمپ کی ’سب سے پہلے امریکا‘ کی پالیسی سے متصادم موقف ہے۔ تاہم ٹرمپ اس اعلامیے میں یہ جملہ شامل کرانے میں کامیاب رہے کہ آزاد تجارت کو ’منصفانہ اور متوازن‘  رکھا جائے گا۔

جرمن چانسلر میرکل کا بھی کہنا تھا کہ سات بڑے ممالک کے مابین عالمی تجارت کے موضوع پر گفتگو ’مناسب‘ رہی۔

جی سیون اجلاس میں اگر کسی مسئلے پر تمام ممالک متفق تھے تو وہ دہشت گردی سے نمٹنے کا موضوع تھا۔ برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے نے مانچسٹر میں دہشت گردی کے واقعے کے تناظر میں سمٹ کے دوران مطالبہ کیا تھا کہ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کمپنیوں کو انٹرنیٹ سے جہادی پروپیگنڈا مواد ہٹانے کا پابند بنایا جائے۔ تمام ممالک نے مے کی تائید کی۔ جاپان نے شمالی کوریا کے خلاف ’یکساں لہجہ‘ اختیار کرنے کی تجویز بھی دی تھی، اس معاملے پر بھی تمام ممالک کے مابین اتفاق پایا گیا۔

جی سیون سمٹ: تین سوال، تین جواب

DW.COM