1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جی سیون اجلاس شروع ’نتائج کی امید‘

سات ترقی یافتہ ممالک ’جی سیون‘ کا سالانہ سربراہی اجلاس جاپانی شہرآئی شیما میں شروع ہو گیا ہے۔ اس دوران عالمی معیشت کو درپیش خطرات، ایشیا کے حالات اور خصوصی طور پر شمالی کوریا کے ساتھ تنازعے پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔

جاپانی وزیر اعظم شینزو آبے نے اپنے افتتاحی خطاب میں اپنے مہمانوں، جن میں جرمن چانسلر انگیلا میرکل کے علاوہ فرانس، برطانیہ، اٹلی، امریکا اور کینیڈا کے سربراہانِ مملکت و حکومت شامل ہیں، خوش آمدید کہا۔ اس موقع پرانہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ اس سربراہی اجلاس سے مطلوبہ نتائج حاصل ہوں گے۔ آبے نے مزید کہا کہ اس سے یہ واضح پیغام بھی دوسروں تک پہنچے گا کہ جی سیون ممالک عالمی معیشت میں پائیدار ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہیں۔ یہ بات انہوں نے عالمی سطح پر تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے ترقی کی دہلیز پر کھڑے ممالک پر پڑنے والے بوجھ کے تناظر میں کہی۔

تمام رہنماؤں نے ایک تاریخی عمارت کا دورہ کرتے ہوئے اپنے پروگرام کا آغاز کیا۔ جاپان کے علاقے شنتو کے جنگلات میں گھری لکڑی سے بنی ہوئی یہ عمارت ایک مقدس ترین مقام تصور کی جاتی ہے۔ دوسری عالمی جنگ میں شکست کے بعد ریاست شنتو کو ایک طرح سے ممنوعہ علاقہ قرار دے دیا گیا تھا تاہم قدامت پسند وزیراعظم روایتی اور سماجی اقدار کے فروغ کے سلسلے میں اس جگہ کے دورے کرتے رہے ہیں۔

اس مقدس مقام کے دورے کے بعد تمام رہنماؤں نے ظہرانے پر ملاقات کی اور عالمی موضوعات پر تبادلہ خیال کیا۔ اس اجلاس کے دوران زیر بحث آنے والے زیادہ تر موضوعات کا تعلق شینزو آبے کی ترجیحی پالیسیوں سے ہے۔ ان میں بحیرہ جنوبی چین میں بیجنگ حکومت کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کی وجہ سے سمندروں کی حفاظت، عالمی سطح پر طبی سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کے علاوہ انسداد دہشت گردی کی کوششیں شامل ہیں۔

جی سیون اجلاس میں دیگر موضوعات کے علاوہ یورپ کو درپیش مہاجرین کے بحران، شام اور یوکرائن کے بگڑے ہوئے حالات پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ اس اجلاس کے موقع پر منعقد کی گئی ایک اور تقریب سے یورپی کونسل کے سربراہ ڈونلڈ ٹسک نے اپنے خطاب میں شرکاء کی توجہ یورپ کو درپیش مہاجرین کے بحران کی جانب مبذول کرائی۔ ان کے بقول اس بحران سے نمٹنے کے لیے جی سیون ممللک کو اپنے تعاون میں اضافہ کرنا چاہیے۔

ذرائع کے مطابق اس اجلاس کے موقع پر کیے جانے والے حفاظتی انتظامات کو جاپان کی تاریخ کے اب تک کے سخت ترین اقدامات قرار دیا جا رہا ہے۔ امریکی صدر باراک اوباما اس اجلاس میں شرکت کے لیے سب سے آخر میں پہنچنے۔ کل جمعے کو اجلاس کی کارروائی ختم ہونے کے بعد وہ ہیرو شیما کے امن پارک کا دورہ کریں گے، جہاں 1945ء میں امریکا نے جوہری بم گرایا تھا۔ وہ اس یادگار کا دورہ کرنے والے پہلے امریکی صدر ہیں۔