1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جی بیس کا اجلاس، جرمنی اور فرانس کا موقف

جی ٹوئنٹی کا دو روزہ اجلاس کل سے برطانوی دارالحکومت لندن میں ہورہا ہے۔ اس موقع پر عالمی اقتصادی بحران پر غور کیا جائے گا۔ تاہم جرمنی اور فرانس نے اس اجلاس میں ہونے والی پیش رفت پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

default

جرمن چانسلر انگیلا میرکل اور فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی

جرمنی اور فرانس جی ٹوئنٹی گروپ کے دیگر رکن ممالک پر زور دے رہے کہ مالیاتی ضوابط کو سخت بنانے کے لئے ٹھوس اقدامات کئے جائیں۔ ان یورپی ریاستوں کا موقف ہے کہ ایسا نہ کیا گیا تو اجلاس بے سود ہوگا۔

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے آج لندن روانگی سے قبل برلن میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ وہ تشویش اور اعتماد کے ملے جلے جذبات لئے برطانیہ جارہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اقتصادی بحران سے پیدا ہونے والی صورت حال کو نظرانداز کرنا مسئلے کا حل نہیں بلکہ جی ٹوئنٹی گروپ کے رکن ممالک کو اپنی اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔

Autos in Bremerhaven

عالمی اقتصادی بحران نے جرمن کار ساز صنعت کو بھی متاثر کیا ہے

"ہم کوشش کریں گے کہ کسی ٹھوس اقدام کے لئے اتفاق رائے ہو سکے اور اس پر عمل درآمد کو بھی یقینی بنایا جاسکے۔ اسی طرح جی ٹوئنٹی گروپ کے کسی بھی رکن ملک میں مالیاتی منڈیوں اوراداروں کی بہترکارکردگی کوبذریعہ نگرانی یقینی بنایا جاسکے۔"

جرمنی چاہتا ہے کہ ایک اور مالیاتی بحران سے بچنے کے لئے جی ٹوئنٹی کے اجلاس میں مزید مالیاتی پیکجز پرغور کے بجائے مالیاتی ضابطوں کی تبدیلی پر زور دیا جائے۔ فرانس نے بھی برلن حکومت کے اس موقف کی کھل کر حمایت کی ہے۔

فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی نے بھی جی ٹوئنٹی رہنماؤں پر سخت مالیاتی ضابطوں کے لئے زور دیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پیرس اور برلن حکومتیں کانفرنس میں کئے جانے والے معاہدے کے مسودے سے مطمئن نہیں ہیں۔

MKS-Stau

جرمنی چاہتا ہے کہ ایک اور مالیاتی بحران سے بچنے کے لئے جی ٹوئنٹی کے اجلاس میں مزید مالیاتی پیکجز پرغور کے بجائے مالیاتی ضابطوں کی تبدیلی پر زور دیا جائے۔

لندن روانگی سے قبل ایک ریڈیو پیغام میں صدر سارکوزی نے جرمن چانسلر کے ساتھ منگل کو ہونے والی اپنی ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں حکومتوں کے درمیان اتفاق رائے ہے کہ جی ٹوئنٹی کے اجلاس کے ٹھوس نتائج برآمد نہ ہوئے تو یہ نشست بے معنی ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ فرانس اور جرمنی کا موقف ایک ہی ہے اور دونوں مالیاتی بحران کے حل کے لئے یورپی اقدار پر منحصر طریقہ کار اختیار کئے جانے کے خواہاں ہیں۔

صدر نکولا سارکوزی نے کہا کہ پیرس حکومت نے یہ واضح کر دیا ہے کہ مالیاتی ضوابط کے بارے میں ٹھوس اقدامات نہ کئے گئے تو وہ اجلاس سے واک آؤٹ کر جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک خالی کرسی اجلاس کی ناکامی کو ظاہر کرے گی۔