1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جی ایچ کیو پر حملہ: ایک ملزم کو سزائے موت

ایک فوجی عدالت نے پاکستانی فوج کے ہیڈ کوارٹرز پر حملے کے الزام میں سات افراد کو قصور وار قرار دیا ہے۔ ان میں سے ایک شخص کو سزائے موت سنائی گئی ہے۔

default

خبر رساں ایسوسی ایٹڈ پریس نے ایک پاکستانی اہلکار کے حوالے سے بتایا ہے کہ سزائے موت پانے والا شخص ایک ریٹائرڈ فوجی ہے۔ حکام کے مطابق ایک سابق فوجی عقیل المعروف ڈاکٹر عثمان کو سزائے موت سنائی گئی ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ڈاکٹر عثمان نے ہی اس حملے کی سربراہی کی تھی۔

راولپنڈی میں قائم پاکستان فوج کے جنرل ہیڈ کوارٹرز پر 10 اکتوبر 2009ء کو دہشت گردوں کے حملے میں 14 فوجی اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔ 22 گھنٹے تک جاری رہنے والے اس حملے میں نو عسکریت پسند بھی مارے گئے تھے۔ یہ حملہ پاکستانی فوج کے لیے عالمی سطح پر شرمندگی اور ہزیمت کا باعث بنا تھا۔

22 گھنٹے تک جاری رہنے والے اس حملے میں 14 فوجی اہلکار ہلاک ہوئے تھے

22 گھنٹے تک جاری رہنے والے اس حملے میں 14 فوجی اہلکار ہلاک ہوئے تھے

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی طرف سے اس وقت جاری ہونے والے ایک بیان میں بتایا گیا تھا کہ ڈاکٹر عقیل کی قیادت میں دہشت گرد اپنے کم از کم 100ساتھیوں کی رہائی چاہتے تھے اور اس مقصد کےلئے وہ اعلیٰ فوجی قیادت کو یرغمال بنانے کے ارادے سے جنرل ہیڈ کوارٹرز کی حدود میں داخل ہوئے۔

فوجی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے پی کو بتایا کہ چار دیگر ملزمان کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ ان میں ایک سابق فوجی جبکہ تین سویلین افراد ہیں، جبکہ دو دیگر سویلین افراد کو سات سات برس قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

رپورٹ: افسر اعوان

ادارت: ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس