1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جی ایٹ کانفرنس: پہلے سے کئے ہوئے وعدوں کا پھر وعدہ

امیر ترین صنعتی ممالک اور روس پر مشتمل آٹھ کے گروپ جی ایٹ کی سہ روزہ سربراہ کانفرنس شمالی جاپان کے جزیرے ہکائیڈو پر اپنے اختتام کو پہنچ گئی ہے۔ اس کانفرنس کے نتائج پر Henrik Böhme کا لکھا تبصرہ۔

default

وفاقی جرمن وزیر خارجہ فرانک والٹر شٹائن مائیرجاپان منعقدہ جی ایٹ کانفرنس کی مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران

جی ایٹ کانفرنس کے دوران موسمیاتی تبدیلیوں، تیل اور اشیائے خوراک کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے اور مالیاتی منڈیوں کو درپیش بحران کے ساتھ ساتھ براعظم افریقہ کے لئے امداد اور عالمی تجارت کے شعبے میں اصلاحات جیسے معاملات پر بھی بات چیت کی گئی۔

ہر سال آٹھ امیر ترین ملکوں کے سربراہان مملکت وحکومت عام عوام کی دسترس سے دورکسی ایسے خوبصورت اور تفریحی مقام پر ملتے ہیں، جہاں وہ بغیر کسی خلل اندازی کے دنیا کے مسائل پر گفتگو کر سکیں۔ اِس طرح کے اجتماعات کا اختتام ہمیشہ ایک فیملی فوٹو اور ایسے بہت سے وعدوں پر ہوتا ہے کہ کیسے یہ شخصیات دنیا کو تمام تر انسانیت کے لئے ایک بہتر جگہ کی شکل دینا چاہتی ہیں۔

اِس سال بھی دنیا کے آخری سرے پر یعنی شمالی جاپان کے جزیرے ہکائیڈو کے شہر ٹویاکو میں جی ایٹ کے نمائندے تین روز کے لئے اکٹھے ہوئے۔ اپنی نوعیت کے اِس چونتیس ویں اجتماع کے ایجنڈے میں شامل موضوعات کی تعداد بھی گذشتہ تینتیس برسوں کے مقابلے میں زیادہ تھی اور مدعو کئے گئے سربراہان کی تعداد یعنی بائیس بھی غالباً ایک نیا ریکارڈ تھی۔

اس کے باوجود عالمی ماحول کے تحفظ کے معاملے کو ایک بار پھر آئندہ تک کے لئے ملتوی کر دیا گیا، حالانکہ یہاں وہ تمام ممالک جمع تھے، جو دنیا بھر میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اسی فیصد اخراج کے ذمہ دار ہیں۔ سن 2050ء تک ضرر رساں گیسوں کے اخراج میں نصف کمی پر اتفاق رائے بظاہر تو کافی اچھا معلوم ہوتا ہے لیکن وہ وقت آنے میں ابھی بیالیس سال پڑے ہیں، گویا اِس معاملے کا حل آئندہ نسلوں پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ امید کی واحد علامت یہی ہے کہ جی ایٹ کے بڑے رکن ملک کے سربراہ کے طور پر جورج ڈبلیو بش کو اپنے الوداعی دورے کے دوران تحفظ ماحول کے اہداف کے خلاف اپنی مزاحمت بالآخر ترک کرنا پڑی۔

ٹویاکو میں کئے گئے وعدوں کی اصل آزمائش اب سے کوئی پانچ سو روز بعد کوپن ہیگن میں ہو گی، جہاں ماحول کے موضوع پر اقوامِ متحدہ کی سربراہ کانفرنس منعقد ہو گی۔ غالب امکان ہے کہ دنیا کو وہاں بھی مایوسی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

G8-Gipfel in Japan Gruppenbild Spezialbild

جاپان کے شہر ٹویاکو میں جی ایٹ میں شامل ملکوں کے قائدین کا گروپ فوٹو۔

کانفرنس کے تین دنوں کے دوران بھی دنیا بھر میں لوگ اِس لئے جان سے جاتے رہے کہ ان کے پاس کھانے کو کچھ نہیں تھا یا وہ پینے کے صاف پانی سے محروم تھے۔ براعظم ایشیا میں ایک ملین انسانوں کو اپنی آمدنی کا ساٹھ فیصد خوراک پر خرچ کرنا پڑتا ہے۔ اور جی ایٹ ممالک کیا کر رہے ہیں؟ وہ چند ایک ارب ڈالر خرچ کرتے ہوئے مثلاً افریقہ میں زرعی شعبے کو بہتر بنانا چاہتے ہیں۔ کوئی پوچھے کہ وہاں کے زرعی ڈھانچے تباہ کس نے کئے ہیں، اپنے ہاں زرعی مصنوعات کو سرکاری طور پر امدادی رقوم فراہم کرتے ہوئے؟ جواب ہے، شمال کے امیر ملکوں نے۔ اب یہ ملک برآمدات کے شعبے میں وسیع تر آسانیاں پیدا کرنے کے وعدے کر رہے ہیں۔ ان وعدوں کا پول بھی لیکن جلد ہی کھل جائے گا، جب عالمی تجارتی مذاکرات کو کامیابی سے تکمیل تک پہنچانے کا مرحلہ آئے گا۔ وہاں بھی مایوسی خارج از امکان نہیں ہے۔

روشنی کی واحد کرن یہ ہے کہ جی ایٹ ممالک خوراک کو بچانے کے لئے بائیو ڈیزل سے گریز پر رضامند نظر آتے ہیں۔ یعنی گاڑی کی ٹینکی میں وہی چیز ڈالی جائے گی، جو انسان کی خوراک نہ ہو۔ اس گاڑی میں بھلا جِدّت کی کیا بات ہے، جس کی ٹینکی بھرنے کے لئےکسی انسان کی سال بھر کی خوراک درکار ہو۔

ان گوناگوں مسائل کی وجہ سے افریقہ کے لئے امداد ایک بار پھر ایک ضمنی موضوع بن کر رہ گئی۔ پھر بھی اتنا ضرور ہوا کہ پہلے سے کئے گئے وعدوں کا پرزور اعادہ کیا گیا، نہ کہ انہیں ایجنڈے سے ہی ہٹا دیا گیا ہو، جیسا کہ خدشہ تھا۔ اور مسئلہ پیسے کی کمی کا بہرحال نہیں ہو سکتا کیونکہ عالمی مالیاتی منڈیوں کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لئے تو فوراً سے بھی پہلے ایک ارب ڈالر فراہم کر دئے گئے۔ اس رقم سے، جو یہ کانفرنس منظم کرنے پر خرچ ہوئی ہے، ایڈز کے وائرس سے متاثر چار ملین انسانوں کا علاج ہو سکتا تھا۔