1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

جیکسن قدرتی طریقے سے نہیں سو سکتے تھے، ڈاکٹر کا بیان

پولیس نے آنجہانی پاپ اسٹار مائیکل جیکسن کے ڈاکٹر کا ایک انٹرویو عدالت میں پیش کیا ہے، جس میں ڈاکٹر مرے نے کہا کہ جیکسن نیند کے لیے ترستے تھے۔

default

عالمی شہرت یافتہ پاپ اسٹار مائیکل جیکسن

مائیکل جیکسن کے ڈاکٹر کونریڈ مرے کے مقدمے کی سماعت لاس اینجلس کی ایک عدالت میں جاری ہے۔ پولیس نے عدالت کو ڈاکٹر مرے کا ایک انٹرویو سنایا ہے جو کہ ڈاکٹر مرے نے پولیس کو جیکسن کے انتقال کے دو روز بعد دیا تھا۔ عالمی شہرت یافتہ پاپ اسٹار مائیکل جیکسن کا انتقال پچیس جون دو ہزار نو کو ہوا تھا۔ ان کی موت کی وجہ پروپوفول نامی دوا کی زیادتی بتائی جاتی ہے۔ ان کے ڈاکٹر پر الزام ہے کہ وہ غیر ارادی طور پر جیکسن کی موت کی وجہ بنے۔

اس انٹرویو میں ڈاکٹر مرے کہتے ہیں کہ جیکسن نیند کے لیے ان سے پروپوفول طلب کرتے تھے اور وہ اس دوا کو اپنے لیے ’دودھ‘ سے تشبیہہ دیتے تھے۔

Conrad Murray / Arzt / Michael Jackson

جیکسن نیند کے لیے پروپوفول طلب کرتے تھے اور وہ اس دوا کو اپنے لیے ’دودھ‘ سے تشبیہہ دیتے تھے، ڈاکٹر مرے

ڈاکٹر مرے نے اس انٹرویو میں بتایا کہ انہوں نے جیکسن کو پچیس جون کو صبح دس بج کر پچاس منٹ پر پروپوفول کا ڈوز دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ جیکسن تمام رات سو نہیں سکے تھے اور وہ دوا کے لیے تڑپ رہے تھے۔ ڈاکٹر نے تفتیش کاروں سے کہا، ’’میں نے جیکسن کا کافی دیر تک معائنہ کیا اور جب مجھے اطمینان ہو گیا (کہ وہ ٹھیک ہیں) میں باتھ روم چلا گیا۔ جب میں لوٹا تو میں ششدر رہ گیا کہ جیکسن سانس نہیں لے رہے تھے۔‘‘

وکلاء استغاثہ نے عدالت کے سامنے ٹیلی فون کالز کا وہ ریکارڈ بھی پیش کیا جو کہ ڈاکٹر مرے نے صبح گیارہ بج کر سات منٹ اور اس وقت کے درمیان کیں یا وصول کیں، جب کہ انہیں معلوم ہو چکا تھا کہ جیکسن سانس نہیں لے رہے۔

ڈاکٹر مرے کے وکیل کا کہنا ہے کہ جیکسن اپنی موت کی وجہ خود بنے اور انہوں نے ڈاکٹر مرے کی توجہ میں آئے بغیر خود کو پروپوفول کی ایک اضافی ڈوز دی۔

اگر ڈاکٹر مرے پر جیکسن کو غیر ارادی طوپر پر ہلاک کرنے کا الزام ثابت ہو جاتا ہے تو ان کو کم از کم چار سال قید کی سزا دی جا سکتی ہے اور ان کے میڈیکل لائسنس کو منسوخ بھی کیا جا سکتا ہے۔

رپورٹ: شامل شمس⁄  خبر رساں ادارے

ادارت: امتیاز احمد

 

DW.COM