1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جیکب زوما دو تہائی اکثریت کے قریب تر

جنوبی افریقہ کے عام انتخابات کے ابتدائی نتائج کے مطابق جیکب زوما کی حکمران جماعت افریقی نیشنل کانگریس ANC نے تقریبا 66 فیصد ووٹ حاصل کئے ہیں۔ اس طرح حکمران جماعت یقینی طور پر دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کے قریب ترہے۔

default

کامیابی کے بعد جیکب زوماجوہانسبرگ میں اپنے صدر دفتر کے باہر خوشی سے گاتے ہوئے

افریقی نیشنل کانگریس کے باغی دھڑے عوامی کانگریس نے تقریبا سات فیصد ووٹ حاصل کئے ہیں جبکہ ANC کے روائتی اور اہم حریف جمہوری اتحاد نے تقریبا 16 فیصد ووٹ حاصل کئے۔ اب تک قریبا 88 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہو چکی ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق ان انتخابات میں ووٹروں کی شرکت کا تناسب 76 فیصد رہا۔ سن 1994 کے عام انتخابات میں بھی ووٹ ڈالنے کی شرح تقریبا اتنی ہی رہی تھی۔

سن 1994 میں نسلی امتیاز کے قانونی خاتمے کے بعد سے بدھ کے روز ہونے والے الیکشن جنوبی افریقہ میں چوتھے عام انتخابات تھے۔ اس مرتبہ ملکی پارلیمان میں گذشتہ 15 برسوں سے مسلسل دو تہائی سے بھی زیادہ اکثریت رکھنے والی ANC کی مقبولیت میں کچھ کمی ضرور ہوئی ہے تاہم پارٹی رہنما جیکب زوما کے صدر بننے کی راہ میں اب بھی کوئی رکاوٹ دکھائی نہیں دیتی۔

اس مرتبہ بھی پارلیمان میں دو تہائی اکثریت حاصل ہونے کے بعد ANC ملکی آئین میں ترامیم کے قابل تو رہے گی اور اگر چاہے تو اسے اپنی سیاسی بنیادیں مزید مضبوط کرنے کے موقع کے طور پر استعمال بھی کرسکے گی۔ تاہم افریقی نیشنل کانگریس پہلے ہی بارہا کہہ چکی ہے کہ وہ دو تہائی اکثریت کے بعد بھی آئین میں کوئی ترامیم نہیں کرے گی۔

Jacob Zuma feiert

ANC کے حامی خوشیاں مناتے ہوئے

اے این سی کے ترجمان لندِیوے زُولُو نے کہا ہے کہ ان کی پارٹی کو پارلیمان میں اکثریت اس لئے چاہئے کہ وہ اپنے ترقیاتی پروگرام بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل کر سکے۔

ابتدائی نتائج میں واضح برتری ملنے پر افریقی نیشنل کانگریس کے لاکھوں کارکن ملک بھر میں خوشیاں منا رہے ہیں تاہم ناقدین کا کہنا ہے جیکب زوما کو اقتدار میں آنے کے فورا بعد ہی کڑے امتحانات کا سامنا ہوگا۔ ان میں غربت کا خاتمہ اور زبوں حال معیشت کی بحالی بڑے چیلنج ثابت ہوں گے۔ ناقدین کے مطابق متوقع طورپرآئندہ ماہ صدر کا حلف اٹھانے والے جیکب زوما کو ملکی حالات میں بہتری کے لئے، پہلے دن سے ہی دباؤ کا سامنا ہوگا۔

جنوبی افریقہ جو براعظم افریقہ کی سب سے بڑی معیشت ہے، گذشتہ 17 برسوں میں پہلی مرتبہ کساد بازاری کا شکار ہے۔ ماضی کے حریت پسند زوما نے اپنی انتخابی مہم کے دوران ٹریڈ یونینوں کو یقین دلایا تھا کہ ان کی حکومت غربت کے خلاف باقاعدہ لائحہ عمل تیار کرے گی ۔ اسی طرح 67 سالہ جیکب زوما نے جنوبی افریقہ میں معاشی استحکام کا عہد بھی کررکھا ہے تاکہ اس ملک میں بین الاقوامی سرمایہ کاروں کا سرمایہ محفوظ رہے۔ زوما نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو اپنے وطن میں مزید سرمایہ کاری کی دعوت بھی دے رکھی ہے۔

جنوبی افریقہ میں حالیہ انتخابات کی نگرانی کرنے والے 15 ممالک پر مشتمل جنوبی افریقی ترقیاتی برادری کے غیر جانبدار معائنہ کارروں نے ان انتخابات کو منصفانہ اور شفاف قرار دیا ہے۔