1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جیون ساتھی کی تلاش آسان

عام طور سے پارٹنرز کی تلاش کے لئے بروکر کا کام انجام دینے والے نیٹ ورکس خاص قسم کے گاہکوں کی ضروریات پر اپنی توجہ مرکوز رکھتے ہیں۔ اسی طرح کی جرمن زبان کی ایک ویب سائٹ ’مسلم لائف‘ کے نام سے 2007 میں قائم کی گئی۔

default

انٹرنیٹ کے ذریعے پارٹنر کی تلاش کا رجحان بڑھتا ہوا

دنیا بھر میں اس وقت سوشل نیٹ ورکنگ عروج پر ہے۔ ’میرج بروکرز‘ مختلف معاشروں میں ایک ایسا اہم فورم بن چکے ہیں، جن کی مدد سے انسانوں کو ایک دوسرے کو جاننے اور قریب آنے میں بہت آسانی ہو گئی ہے۔ امریکہ اور جرمنی میں تیار کی جانے والی متعدد مطالعاتی رپورٹوں سے پتہ چلا ہے کہ انٹرنیٹ کا استعمال معاشرتی زندگی میں نمایاں تبدیلیوں کا موجب بن رہا ہے۔ عام طور سے پارٹنرز کی تلاش کے لئے بروکر کا کام انجام دینے والے نیٹ ورکس خاص قسم کے گاہکوں کی ضروریات پر اپنی توجہ مرکوز رکھتے ہیں۔ اسی طرح کی جرمن زبان کی ایک ویب سائٹ ’مسلم لائف‘ کے نام سے 2007 میں قائم کی گئی۔ دریں اثناء اس کے رجسٹررڈ صارفین کی تعداد 90 ہزار ہو چُکی ہے۔ یہ ویب سائٹ یورپ کے شادی کے خواہشمند مسلمانوں کے لیے نہایت اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ کیونکہ یہ اسلامی اقدار کے مطابق پارٹنر کی تلاش میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔

NO FLASH Mädchen mit Kopftüchern

جرمنی میں مسلمان لڑکیوں کی شادی ایک اہم مسئلہ ہے

ویب سائٹ ’مسلم لائف‘ کے صارفین کی اکثریت کا تعلق جرمنی، ہالینڈ، آسٹریا اور سوئٹزرلینڈ سے ہے، تاہم اس پر سعودی عرب اور شمالی افریقی ممالک سے تعلق رکھنے والے ’سنگلز‘ کا پروفائل بھی پایا جاتا ہے۔ بہت ہی کم وقت میں اس ویب سائٹ نے پارٹنر کے متلاشی مسلمانوں کے لئے مواقع فراہم کرنے والے دیگر نیٹ ورکس کی یورپی منڈی میں ایک نمایاں مقام بنا لیا۔

34 سالہ جمیلے اُوکر کا تعلق شہر کولون سے ہے۔ یہ ایک با عقیدہ مسلمان خاتون ہے جو پُر کشش اور خوش شکل ہے۔ اس کی اپنے شوہر سے غلیٰحدگی ہو گئی ہے اور اب وہ دوبارہ شادی کرنا چاہتی ہے۔ اس کے لئے ایک مسلمان پارٹنر کی تلاش کوئی آسان کام نہیں ہے۔ وہ کہتی ہے، ’میرا سابق شوہر تھا تو مسلمان مگر فقط نام کا اور کاغذی اعتبار سے۔ اُسے دین سے کوئی خاص لگاؤ نہیں تھا اور یہ میرے لئے کافی نہیں تھا۔اب میں ایک ایسے شخص کی تلاش میں ہوں جسے یہ پتہ ہو کہ وہ اپنے مسلم عقیدے کے تحت زندگی کس طرح گزار سکتا ہے۔‘

Symbolbild Zwangsheirat

مسلمان لڑکیوں کی جبری شادی کا موضوع جرمنی میں بہت زیادہ زیر بحث رہا ہے

مسلم لائف کا ہر صارف مذہبی طور طریقوں کے بارے میں اپنے خیالات اس ویب سائٹ کی مدد سے دوسروں تک پہنچا سکتا ہے۔ جمیلے کہتی ہے کہ وہ کسی لادین یا مسیحی پارٹنر کا تصور بھی نہیں کر سکتی بلکہ ان کی جگہ کسی ایسے مسلمان کو فوقیت دے گی جو بیشک اسلامی طرز زندگی پر بہت زیادہ عمل نہ بھی کرتا ہو۔

بتایا جاتا ہے کہ ’مسلم لائف‘ دیکھتے دیکھتے یورپ کی سب سے بڑی پارٹنر بروکر ویب سائٹ بن گئی ہے۔

قدیر یوجل اور جنید ترگل کمپیوٹر ایکسپرٹس ہیں اور انہوں نے اس ویب سائٹ کی پروگرامنگ کی ہے۔ 2007 میں جس وقت انہوں نے یہ ویب سائٹ بنائی تھی اُس وقت یہ دونوں اسٹوڈنٹ تھے۔ پھر ان کی دوستی ایک اہم تجارتی شراکت داری میں تبدیل ہو گئی۔ شروع شروع میں اس ویب سائٹ کا استعمال مفت تھا تاہم جب عجیب و غریب قسم کے تبصرے اس پر شائع ہونے لگے تو قدیر اور جنید نے اس کی ممبرشپ ماہانہ 19.90 یورو مختص کر دی۔ تاہم یہ ممبرشپ مردوں کے لئے ہے۔ خواتین محض 10 یورو ادا کرتی ہیں۔ اس ویب سائٹ پر ڈالے جانے والے ہر پروفائل کو پہلے یہ دونوں دوست اچھی طرح پرکھ لیتے ہیں۔ یعنی کسی قسم کے تعصب کا تاثر دینے والے یا غیر اخلاقی متن کو شائع نہیں کیا جاتا ہے۔ جنید کے بقول، ’کچھ مرد دوسری شادی کے لئے خاتوں کی تلاش میں ہوتے ہیں تاہم ہم انہیں اپنے پلیٹ فارم پر جگہ نہیں دیتے۔ ہم غیر شادی شدہ، جن کی علیٰحدگی ہو چکی ہو یا جو بیوہ ہوں، کی پیشکش کو اپنی اس ویب سائٹ پر شائع کرتے ہیں۔‘

اس ویب سائٹ کی طرف اب تک پارٹنر کے متلاشی انتہا پسند مسلمانوں نے رجوع نہیں کیا ہے۔ تاہم ’مسلم لائف‘ ویب سائٹ کا مقصد لبرل سے لیکر مذہب پر سختی سے عمل پیرا مسلمانوں کو شریک حیات ڈھونڈنے کے مواقع فراہم کرنا ہے۔

رپورٹ: کشور مصطفیٰ

ادارت: ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس