1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’جینز پہنوگی تو شادی کون کرے گا‘: بھارتی وزیر

بھارت میں ایک مرکزی وزیر نے لڑکیوں کے جینز پہننے پر یہ کہتے ہوئے ایک نیا تنازعہ کھڑا کردیا ہے کہ اس لباس میں کون ان سے شادی کرے گا؟

بھارت کے انسانی وسائل کے فروغ کے نائب مرکزی وزیر ڈاکٹر ستیہ پال سنگھ نے طلبہ کے ایک پروگرام میں اخلاقیات کے حوالے سے اپنی تقریر میں کہا کہ لباس اور اخلاقی قدروں میں قریبی تعلق ہے اور پوشاک کے انتخاب میں بھی احتیاط ضروری ہے۔ انہوں نے طلبہ سے سوالیہ انداز میں پوچھا، ’’اگر جینز پہننے والا کوئی شخص کسی مندر کا پجاری بن جائے تو کیا لوگ اسے پسند کریں گے۔ اور اگر کوئی دلہن جینز  پہن کر شادی کے منڈپ میں آئے تو کیا کوئی دولہا اس سے شادی کرنا پسند کرے گا؟ کتنے لڑکے جینس پہننے والی دلہن سے شادی کرنا چاہیں گے؟‘‘ ڈاکٹر سنگھ ماضی میں ممبئی پولیس کے کمشنر رہ چکے ہیں اور سیاست میں آنے کے لیے انہوں نے اپنے عہدہ سے استعفی دے دیا تھا۔


یہ پروگرام صوبہ اترپردیش کے وزیر اعلی یوگی ادیتیہ ناتھ کی نگرانی میں چلنے والے ایک تعلیمی ادارے میں منعقد کیا گیا تھا جس میں وہ خود بھی موجود تھے۔ یوگی ادیتیہ ناتھ اپنے شدت پسندانہ خیالات کے لیے مشہور ہیں اور صوبہ کی حکمرانی سنبھالنے کے بعد سے اترپردیش میں ہندو دھرم کے فروغ کے لیے ان کے کئی اقدامات تنازعات کا شکار ہوچکے ہیں۔
خواتین کے لباس پہننے پر اعلٰی عہدہ پر فائز کسی رہنما کی طرف سے سوال اٹھانے کا یہ کوئی پہلا معاملہ نہیں ہے۔ بھارتی سیاست دان خواتین کے لباس کے سلسلے میں اکثر متناز ع بیانات دیتے رہتے ہیں۔ حتی کہ وہ خواتین کے لباس کو بھارت میں عصمت دری کے بڑھتے واقعات سے بھی جوڑتے ہیں۔ مرکزی وزیر سیاحت و ثقافت ڈاکٹر مہیش شرما نے حال ہی میں بھارت آنے والی غیر ملکی خواتین کو اسکرٹ نہ پہننے کا مشورہ دے کر تنازعہ پیدا کردیا تھا۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت والے صوبہ ہریانہ کے وزیر اعلٰی منوہر لال کھٹر نے بھی لڑکیوں کو نصیحت کرتے ہوئے کہا تھاکہ اگر لڑکیاں شائستہ لباس پہنیں تو کوئی لڑکا ان کی طرف غلط نظروں سے نہیں دیکھے گا۔ مدھیا پردیش میں بی جے پی کے ہی وزیر بابو لال گوڑ کا کہنا تھا، ’’مغربی ملکوں میں خواتین جینز اور ٹی شرٹ پہنتی ہیں، مردوں کے ساتھ رقص کرتی ہیں اور شراب بھی پیتی ہیں، یہ ان کا کلچر ہے، یہ ان کے لیے اچھا ہوسکتا ہے لیکن بھارت کے لیے نہیں۔ یہاں ہماری تہذیب و ثقافت ہی ہمارے لیے بہتر ہے۔‘‘

سماج وادی پارٹی کے رہنما ابوعاصم اعظمی کے اس متنازعہ بیان پر بھی کافی ہنگامہ ہوا تھا کہ ’’بھڑکیلے لباس پہننے والی خواتین مردوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرتی ہیں اور عصمت دری کے واقعات میں اضافہ کی ایک وجہ یہ بھی ہے‘‘۔
مرکزی وزیر ڈاکٹر ستیہ پال سنگھ کے بیان کے بعد سوشل میڈیا پر ان کے خلاف لوگوں نے مہم چھیڑ دی ہے۔ پرشانت جین نامی ایک شخص نے ٹوئٹر پر لکھا، ’’ ان 545 منتخب افراد کے بارے میں وزیر موصوف کا کیا کہنا ہے جو کرتا پاجامہ، دھوتی کرتا، شیروانی میں پارلیمنٹ جاتے ہیں اور کوئی کام نہیں کرتے۔‘‘

فرقان خان نے لکھا ہے’’ایسے افراد ذہنی طور پر صحت مند نہیں ہیں، انہیں تو یہ بھی نہیں معلوم کہ کیسے بات کی جاتی ہے۔‘‘

آر ڈی لوہار نے ٹوئٹ کیا، ’’بی جے پی لوگوں کے کھانے، پینے اور پہننے پر پابندی لگانا چاہتی ہے۔‘‘

Indien Frauen reisen im Zug

خواتین کے لباس پہننے پر اعلٰی عہدہ پر فائز کسی رہنما کی طرف سے سوال اٹھانے کا یہ کوئی پہلا معاملہ نہیں ہے

رجت شرما نے لکھا، ’’ تعلیم یافتہ افراد بھی بی جے پی میں جاکر بے کار ہوجاتے ہیں۔‘‘
اس تنازعے کے حوالے سے صحافی کوشکی کشیپ کا کہنا ہے، ’’ایسے بیانات پر اب کوئی حیرت نہیں ہوتی، لیڈروں کی عادت ہی ایسی بن گئی ہے، ہمیشہ لڑکیوں کو ٹارگٹ کیا جاتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہے؟ دراصل یہ ہماری سوچ کو ظاہر کرتا ہے۔ ہم مردوں کے غلبے والے سماج کی گرفت سے اب تک باہر نہیں نکل سکے ہیں اور جب آئینی عہدہ پر فائز ڈاکٹر ستیہ پال سنگھ جیسا کوئی شخص اس طرح کا بیان دیتا ہے تو لڑکیوں کے لباس کے حوالے سے ان کے کردار پر سوال اٹھانے والوں کو ایک اور موقع مل جاتا ہے۔‘‘
دریں اثنا صوبہ بہار میں مگدھ مہیلاکالج (ویمنز کالج) کی انتظامیہ نے جنوری 2018سے طالبات کے لیے ڈریس کوڈ جاری کرتے ہوئے کالج کیمپس میں جینز پہننے پر پابندی عائد کردی ہے۔

DW.COM