1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جیلی فش کے کاٹنے سے جرمن خاتون سیاح ہلاک

تھائی لینڈ کے تعطیلاتی جزیرے کوہ ساموئی کے نواح میں ایک زہریلی جیلی فش کے کاٹنے سے ایک بیس سالہ جرمن خاتون سیاح ہلاک ہو گئی۔ پولیس کے مطابق گ‍زشتہ ایک برس کے دوران جیلی فش کے کاٹنے سے انسانی ہلاکت کا یہ تیسرا واقعہ ہے۔

بنکاک سے بدھ سات اکتوبر کے روز ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق اس نوجوان خاتون کو لامائی نامی ساحل کے قریب ایک زہریلی ’باکس جیلی فش‘ نے اس وقت کاٹا، جب یہ جرمن شہری رات کے وقت سمندر میں سوئمنگ کر رہی تھی۔

تھائی لینڈ کے اس جزیرے کی پولیس کے ایک افسر نے اے ایف پی کو بتایا کہ طبی رپورٹوں کے مطابق اس خاتون سیاح کی موت زہریلی جیلی فش کے کاٹنے سے ہوئی اور مقامی حکام نے تمام قریبی ساحلوں پر تعطیلات منانے والے ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کو تنبیہ کر دی ہے کہ وہ کسی بھی وقت ساحل پر نہاتے ہوئے ایسی مچھلیوں سے خبردار رہیں۔

حکام کے مطابق جیلی فش کے انسانوں کو کاٹنے کے واقعات اکثر پیش نہیں آتے لیکن گزشتہ ایک برس کے دوران تھائی لینڈ میں ایسے تین واقعات پیش آ چکے ہیں، جن میں اس مچھلی کا زہر انسانی ہلاکتوں کی وجہ بنا۔

تھائی لینڈ میں پُھوکَیٹ کے جزیرے پر جرمن قونصل خانے نے بھی جیلی فش کے کاٹنے کے نتیجے میں اس جرمن شہری کی موت کی تصدیق کر دی ہے۔ اس سے قبل اگست کے مہینے میں بھی ایک تھائی خاتون ایسی ہی ایک مچھلی کے کاٹنے کے باعث ہلاک ہو گئی تھی۔ اس سے پہلے اگست 2014ء میں اسی علاقے میں ایک ’باکس جیلی فش‘ کے زہریلے ڈنگ کے نتیجے میں سیاحت کے لیے وہاں جانے والے ایک فرانسیسی خاندان کا ایک پانچ سالہ لڑکا بھی موت کے منہ میں چلا گیا تھا۔

جیلی فش کی ’باکس جیلی فش‘ کہلانے والے نسل سمندری جانوروں کی ایک ایسی قسم ہے، جس کی بہت سی باریک اور لمبی لمبی ٹانگیں، جو tentacles کہلاتی ہیں، دو سے تین میٹر یا چھ سے دس فٹ تک طویل ہو سکتی ہیں۔ انہی کے ذریعے یہ مچھلی اپنے شکار کو کاٹتی ہے اور یہ زہریلا ڈنگ جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔