1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

'جیش محمد، لشکر طیبہ‘، دہشت گرد تنظیمیں ہیں، برکس اعلامیہ

چین اور بھارت سمیت پانچ اہم ابھرتی ہوئی معیشتوں نے دہشت گردی کے خلاف تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے ایک اعلامیہ جاری کیا ہے۔ اس اعلامیے میں شامل دہشت گرد تنظیموں میں پاکستان میں قائم چند تنظیمیں بھی شامل ہیں۔

جنوب مشرقی چینی شہر شیامن میں ہوئے برکس ممالک کے اجلاس کے بعد دہشت گرد گروپوں کے حوالے سے جاری کیے گئے ایک اعلامیے میں پاکستان میں قائم مبینہ عسکریت پسند تنظیموں ’جیش محمد اور لشکر طیبہ‘ کے نام بھی شامل ہیں۔ اس پیش رفت کو بھارت کی سفارتی فتح قرار دیا جا رہا ہے۔ شیامن ڈیکلیریشن میں شامل دیگر دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں القاعدہ کا نام بھی  ہے۔

چین نے، جو پاکستان کا اہم اتحادی ہے، اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی بین کی گئی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کا نام شامل کرنے کی بھارتی کوششوں کو بارہا روکا ہے۔ بھارت کا الزام ہے کہ پاکستان عسکریت پسندوں کو پناہ گاہ اور بھارت کی سر زمین پر حملوں کے لیے تربیت فراہم کرتا ہے۔

چین سلامتی کونسل کا مستقل رکن ہے اور اسے ویٹو کا حق بھی حاصل ہے۔ بھارت اور چین متنازعہ سرحدی علاقوں سے افواج کے فوری انخلا پر حال ہی میں متفق ہوئے ہیں اور قریب دس ہفتوں سے دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی برکس سمٹ میں شمولیت کی راہ ہموار کی ہے۔

شیامن اعلامیے میں افغانستان میں مبینہ طور پر سرگرم حقانی نیٹ ورک اور مشرقی ترکستان اسلامک موومنٹ کے حوالے سے بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ کی ایک اہلکار پریتی سارن کا کہنا ہے کہ یہ پہلی بار ہوا ہے کہ برکس اجلاس میں دہشت گرد تنظیموں کے ناموں کو دستاویز کی شکل دی گئی ہے اور یہ بہت اہم پیش رفت ہے۔ سارن نے بھارتی فوجوں کے متنازعہ سرحدی علاقے سے انخلا اور چین کے پاکستان میں قائم مبینہ دہشت گرد گروپوں کو فہرست میں شامل کرنے کے درمیان کسی بھی تعلق سے انکار کیا ہے۔

شیامن اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اقوام کو دہشت گرد تنظیموں کے خلاف بین الاقوامی قانون کے مطابق لڑنے کے لیے متحد ہونا چاہیے تاہم ساتھ ہی ملکوں کی خود مختاری میں مداخلت نہ کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔ برکس (BRICS) میں چین، بھارت، جنوبی افریقہ، روس اور برازیل شامل ہیں۔

DW.COM