1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

جیت اچھا شگن ہے، پاکستان ہاکی کپتان

عالمی چمپیئن آسٹریلیا کے خلاف پرتھ ٹرائی نیشن ٹرافی کے فائنل میں پاکستان کی شاندار جیت پر کپتان شکیل عباسی کا کہنا ہے کہ اب ان کی ٹیم دنیا کی کسی بھی ٹیم کو ہرا سکتی ہے۔

default

پرتھ میں پاکستان کی فتح اس اعتبارسے اہم تھی کہ یہ رابوٹرافی دوہزار پانچ کے بعد سے آسٹریلیا کے خلافپاکستان کی پہلی کامیابی ہے۔ پرتھ فائنل سے صرف دو روز پہلے پاکستان کو اسی آسٹریلوی ٹیم کے ہاتھوں آخری گروپ میچ میں دو کے مقابلے میں ریکارڈ آٹھ گول سے شکست کا بھی سامنا کرنا پڑاتھا۔

پاکستانی کپتان شکیل عباسی نے وطن واپسی پر ڈوئچے ویلے کو انٹرویو میں کہا کہ ان کی ٹیم کے نوجوان کھلاڑیوں کو آسٹریلیا کے خلاف پہلے مرحلے کے میچز کھیلنے سے کامیابی کے لیے درکار اعتماد ملا۔ ’ہم فائنل میں ڈو اور ڈایی کا تہیہ کرکے اترے تھے۔ اس لیے میزبان ٹیم کو ہم نے سنبھلنے کا موقع ہی نہیں دیا۔‘

شکیل عباسی کا کہنا تھا، ’پاکستانی ٹیم کو دنیا کی نمبر ایک ٹیم کو ہرا کر جو حوصلہ ملا ہے، اب اگر ہم اپنی فنِشنگ کی کمزوری دور کر لیں، تو چمپیئنز ٹرافی بھی جیت سکتے ہیں کیونکہ اگر ہم آسٹریلیا کو ہرا سکتے ہیں، تو دنیا کی کسی بھی ٹیم کے دانت کھٹے کر سکتے ہیں۔‘

India Hockey Weltmeisterschaft

پاکستان اور بھارت کے درمیان کھیلے گیے دونوں میچ برابر رہے

پاکستان کی عالمی رینکنگ نو ہونے کی شکیل عباسی کو زیادہ تشویش نہیں ہے اور ان کا کہنا ہے دو سال تک چمپیئنز ٹرافی کے لیے کوالیفائی نہ کرنےاور غیر ملکی ٹیموں کے پاکستان نہ آنے کی وجہ سے ٹیم کی درجہ بندی تنزلی کا شکار ہوئی تاہم اب چمپیئنز ٹرافی کھیلنے کے بعد اس میں ضرور بہتری آئے گی۔

ٹیم کےتجربہ کار اسٹرائیکر شکیل عباسی کو اس بات کا گلہ ہے کہ پاکستان میں ٹورنامنٹ کے میچز براہ راست نہ دکھائے جانے سے کھلاڑیوں اور کوچز کی وہ پزیرائی نہیں ہو رہی، جس کے وہ مستحق ہیں۔ عباسی نے کہا کہ پاکستانی ٹیم نے گز شتہ بارہ ماہ میں چھ میں سے پانچ ٹورنامنٹس کے فائنل کھیلے ہیں اور ایشین گیمز سمیت یہ تیسرا ٹائٹل جیتا ہے، مگر میچ ٹیلی کاسٹ نہ ہونے سےعوام ٹیم کی کارکردگی سے بے خبر رہتے ہیں۔

پرتھ کی اس ٹرائی نیشن ٹرافی میں روایتی حریف بھارت کے خلاف پاکستان کے دونوں لیگ میچز برابر رہے تھے۔ مگر پہلے میچ میں پارہ اتنا چڑھا کہ دونوں ٹیموں کے درمیان ہاکی کا میدان، میدان کارزار بن گیا، جس کے نتیجے میں دو پاکستانی کھلاڑیوں عمران اورشفقت شدید زخمی ہوگئے اور منتظمین کو تین بھارتی کھلاڑیوں اور دو آفیشلزکے ساتھ پاکستانی کپتان شکیل عباسی کو بھی معطل کرنا پڑا۔ اس بارے میں پاکستان ہاکی ٹیم کے مینجر کےایم جنید کہتے ہیں کہ بھارت کی طرف سے پہل کے باوجود کسی پاکستانی کھلاڑی نے بھارتی کھلاڑی پر ہاکی نہیں اٹھائی۔ ’’یہاں تک کہ بھارتی ٹیم کے اسسٹنٹ کوچ نے اندر آکے ہمارے کھلاڑیوں کو زدوکوب کیا۔ ہماری شرافت کا ثبوت ایف آئی ایچ کی طرف ملنے والا وہ خط ہے، جس میں اس واقعے میں پاکستان ٹیم کی مینجمنٹ اور کھلاڑیوں کے جذبات پر قابو رکھنے پرہمیں سراہا گیا ہے۔‘‘

اب تین سے گیارہ دسمبر تک نیوزی لینڈ کے شہرآکلینڈ میں ہونے والا چمپیئنزٹرافی ورلڈ ہاکی ٹورنامنٹ پاکستان ہاکی ٹیم کی سال دو ہزار گیارہ کی آخری اورسب بڑی آزمائش ہوگا۔

رپورٹ: طارق سعید، لاہور

ادارت: عاطف توقیر

DW.COM