1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جہاں رکاوٹ ۔ وہیں دھرنا

جمعرات کے روز پنجاب کے کئی بڑے شہروں میں وکلا نے دفعہ ایک سو چوالیس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے عدلیہ کی آزادی کے لئے احتجاجی مظاہرے کئے۔

default

پولیس کی جانب سے کئی مقامات پر مظاہرین کے خلاف لاٹھی چارج کیا گیا

وکلاء اور سیاسی جماعتوں کے کارکنان نے ریلیاں نکالیں اور نعرے لگائے۔ اس موقعے پر لگائے جانے والے وکلاء کے نعرے صد ر آصف زرداری کے خلاف ہتک آمیز الفاظ لئے ہوئے تھے۔

لاہور میں وکلاءکی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے معروف قانون دان چوہدری اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو بحال کئے بغیر مسائل حل نہیں ہو سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کتنے لانگ مارچ روکے گی۔ ’’وکلاء پندرہ دن بعد پھر نئے لانگ مارچ کی تاریخ دے دیں گے‘‘۔ اعتزاز احسن کا یہ بھی کہنا تھا کہ صدر مشرف کی طرف سے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف دائر کیا جانے والا ریفرنس سپریم کورٹ نے مسترد کر دیا تھا۔ ان کے مطابق رکاوٹوں کے باوجود وکلا ء اسلام آباد ضرور پہنچیں گے۔ انہوں نے نوجوان وکلا ء کو تلقین کی کہ گرفتاریوں کے باوجود اپنے حوصلے بلند رکھیں اور اسلام آباد پہنچنے کی پوری کوشش کریں۔ اگر ان کے لئے تمام راستے بند کر دئیے جائیں تو اعتزاز احسن کے بقول وکلا ء کو جہاں روکا جائے وہ وہی دھرنا دیں۔’’ گوجرانوالہ کے وکیل گوجرانوالہ کی سڑک بلاک کر دیں۔ ساہیوال کے وکلا ء ساہیوال کی سڑک پر دھرنا دیں اور اس سب کے باوجود 16 مارچ کو شاہرہ دستور پر پہنچنے کی اپنی کوشش بھی جاری رکھیں‘‘۔

Proteste in Pakistan

کئی مقامات پر سادہ لباس پولیس اہلکار بھی مظاہرین کو گرفتار کرتے دکھائی دئیے

جمعرات کو ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں وکلاء اور سیاسی کارکنوں کی تعداد ماضی کی نسبت کافی زیادہ تھی۔ موجودہ لانگ مارچ میں ماضی کے بر عکس سیاسی رہنما ؤں کی وکلاء کے ساتھ وابستگی بڑی نمایاں نظر آ رہی ہے۔

ملتان میں وکلا سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لےگ (ن) کے رہنما جاوید ہاشمی کا کہنا تھا کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ وکلاء کا لانگ مارچ ہے وہ صحیح بات نہیں کر رہے ہیں ان کے مطابق وکلا ء اس لانگ مارچ کی قیادت کر رہے ہیں اور اس لانگ مارچ کا ہر اول دستہ ہیں۔ ان کے مطابق ’’اب یہ قومی لانگ مارچ ہے جس کا مقصد ملک کے آئین کی بحالی اور ظلم کا خاتمہ بھی ہے‘‘۔

جاوید ہاشمی نے کہا کہ پاکستان کی جمہوریت پسند سیاسی قوتیں وکلاء کے ساتھ ہیں اور جدوجہد کے اس میدان میں وہ وکلا ء کو اکیلا نہیں چھوڑیں گی۔

معزول چیف جسٹس کی بحالی کے لئے ایک روز بعد پنجاب پہنچنے والے لانگ مارچ کو روکنے کے لئے صوبے کے مختلف شہروں میں پولیس کے چھاپوں اور سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ اگرچہ صوبائی محکمہ داخلہ نے 600 سے زائد سیاسی کارکنوں کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے لیکن مسلم لیگ (ن)، تحریک انصاف اور جماعت اسلامی پاکستان سمیت سیاسی جماعتیں یہ تعداد ہزاروں میں بتا رہی ہیں۔

ادھر لاہور پریس کلب میں چند غیر معروف وکلاء نے وکلاء رہنمائوں پر لانگ مارچ میں شرکت نہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے لانگ مارچ میں حصہ نہ لینے کا اعلان کیا ہے۔