جہانگیر ترین کی تا عمر نا اہلی، عمران کا ’دامن صاف نکلا‘ | حالات حاضرہ | DW | 15.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جہانگیر ترین کی تا عمر نا اہلی، عمران کا ’دامن صاف نکلا‘

پاکستان کی سپریم کورٹ نے تحریکِ انصاف کے جنرل سیکرڑی جہانگیر ترین کو تا حیات نا اہل قرار دے دیا ہے جب کہ عمران خان نا اہلی سے بچ گئے ہیں۔

عدالتِ عالیہ کے تین رکنی بینچ نے، جس کی سربراہی چیف جسٹس ثاقب نثارکی، یہ فیصلہ آج ایک بھری عدالت میں دیا۔ جسٹس عطا بندیال اور جسٹس فیصل عرب بھی اس تین رکنی بینچ کا حصہ تھے۔ یہ فیصلہ چودہ نومبر کو محفوظ کیا گیا تھا۔

مسلم لیگ نون کے رہنما حنیف عباسی نے عمران خان اور جہانگیر ترین کے خلاف پٹیشن دائر کی تھی، جس میں عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ عمران خان اور جہانگیر ترین کو اثاثے چھپانے، جھوٹ بولنے اور دوسرے ممالک سے فنڈ لینے کی وجہ سے نا اہل قرار دیا جائے۔

عدالت نے جہانگیر ترین کو آئین کی شق 61 ون ایف کے تحت نا اہل قرار دیا اور کہا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کو ان کے خلاف ایکشن لینا چاہیے تھا۔

عدالت نے کہا کہ جہانگیر ترین نے انسائیڈر ٹریڈر کے طور پر اپنے عہدے کا نا جائز استعمال کیا۔ چیف جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ ترین نے اپنے باورچی اور ڈرائیور کے نام پر انسائیڈر ٹریڈنگ کی اور انہیں بے ایمانی کا مرتکب پایا گیا ہے۔ 

چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا، ’’یہ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ غیر ملکی فنڈنگ کے معاملے کو تفصیل سے دیکھے۔ الیکشن کمیشن کسی بھی سیاسی جماعت کے پانچ سالہ فنڈنگ کے مسئلے کو دیکھ سکتی ہے۔‘‘

فیصلے کے وقت نون لیگ کے رہنما حنیف عباسی، مریم اورنگریب، وزیر اعظم پاکستان کے ترجمان مصدق ملک، وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری سمیت پارٹی کے کئی رہنما بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔

دوسری جانب تحریک انصاف کے چوہدری سرور، فیصل جاوید خان، نذر گوندل اور فردوس عاشق اعوان سمیت کئی  دیگر سرکردہ رہنما بھی عدالت پہنچے تھے۔

فیصلے کے فوراﹰ بعد نون لیگ کے ارکان نے اس پر تنقید کرنا شروع کر دی۔ مریم اورنگزیب نے تو عمران خان کے خلاف سخت زبان بھی استعمال کی اور ان پر یہودیوں اورہندوؤں سے فنڈنگ لینے کا الزام لگایا۔

عمران خان فیصلے کے موقع پر کراچی میں تھے۔ کراچی میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے عمران خان نے کہا، ’’ایک منشیات فروش نے میرے خلاف کیس کیا۔ اللہ کا شکر ہے کہ منی ٹریل بھی مل گئی اور ثبوت بھی مل گئے۔ ایک سال کیس چلا اور میں نے ساٹھ کاغذات جمع کرائے۔ نواز تین سو ارب روپے لے کر ملک سے باہر گیا اور صرف ایک کاغذ جمع کرایا اور وہ تھا قطری خط۔‘‘

Pakistan PTI Chairman Imran khan

عمران خان کے قریبی ساتھی اور پاکستان تحریک انصاف کے جنرل سیکرٹری جہانگیر ترین کو عدالت نے آئین کی شق 61 ون ایف کے تحت نا اہل قرار دیا

انہوں نے جہانگیر ترین کی سزا پر کہا کہ انہیں افسوس ہے کہ جہانگیر ترین کو نا اہل قرار دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کے سیکرٹری جنرل کو تکنیکی گراؤنڈ پر نا اہل قرار دیا گیا ہے لیکن پارٹی اس فیصلے کو قبول کرے گی اور اس کے خلاف نظرِ ثانی کی اپیل کرے گی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ جہانگیر ترین ملک میں سب سے زیادہ ٹیکس دینے والے بزنس مین ہیں۔‘‘

عمران خان کی اس فتح کے بعد عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے ایک چینل سے بات چیت کرتے ہوئے سب سے دلچسپ مشورہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مذہب کی طرف سے کوئی رکاوٹ نہیں ہے تو عمران خان کو جمائما سے دوبارہ شادی کر لینی چاہیے۔

DW.COM