1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جہازوں کے ٹکراؤ کے ’بصری ثبوت‘

بھارتی وزارت دفاع نے اپنی وزارت خارجہ کو چند تصویریں دی ہیں، جن کا مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ گزشتہ دِنوں پاکستان اور بھارت کے بحری جہازوں کے ٹکراؤ کا ذمہ دار پاکستان تھا۔

default

یہ معاملہ ایک ایسے وقت رونما ہوا ہے جب اسی ہفتے، چوبیس اور پچیس جون کو، اسلام آباد میں پاکستان اور بھارت کے خارجہ سیکریٹریوں کی ملاقات ہونے جا رہی ہے۔

تاہم سمندر میں بھارت اور پاکستانی بحریہ کے جہازوں کے ٹکراؤ سے ایک اور تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔ دونوں ہی فریق اس ٹکر کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈال رہے ہیں۔

بھارتی خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق اب بھارتی وزارت دفاع نے چند تصویروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ غلطی پاکستانی بحریہ کے جہاز پی این ایس بابر کی تھی۔ وزارت دفاع کے مطابق اس حوالے سے بصری ثبوت بھارتی وزارت خارجہ کو سونپ دیے گئے ہیں۔

خیال رہے کہ یہ واقعہ گزشتہ ہفتے پیش آیا تھا۔ دراصل مصر کے جہاز MV Suezکو قزاقوں نے اغوا کر لیا تھا۔ اس جہاز کے عملے کے بائیس ارکان میں سے چار پاکستانی اور چھ بھارتی تھے۔ قزاقوں کو بیس لاکھ ڈالر دے کر جہاز آزاد کرایا گیا، جسے رہائی کے بعد سکیورٹی دینے کے لیے پاکستانی بحریہ کا جہاز پی این ایس بابر اور بھارتی بحریہ کا جہاز INS Godavari پہنچا۔ تاہم ایک مقام پر دونوں جہاز وں کا آپس میں ٹکراؤ ہوگیا۔

پاکستان کا الزام ہے کہ بھارتی جہاز نے دفاع کے کام میں رکاوٹ ڈالی۔ ہفتہ کو پاکستان کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ بھارتی بحریہ کے جہاز نے نہ صرف پاکستانی بحریہ کے جہاز کی انسانی مہم میں رکاوٹ ڈالی بلکہ خطرناک داؤ بھی چلے ، جس کی وجہ سے دونوں جہاز ایک دوسرے سے رگڑ کھا گئے۔ بیان میں کہا گیا کہ بھارتی حکومت سے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہا گیا ہے کہ مستقبل میں ایسا واقعہ پیش نہ آئے۔

دوسری جانب بھارت نے نہ صرف پاکستانی جہاز کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے بلکہ بھارتی وزارت دفاع اس سلسلے میں پاکستانی ہائی کمیشن میں بحریہ کے مشیر کو بھی طلب کر چکی ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل/ خبررساں ادارے

ادارت: شامل شمس

DW.COM