1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جہادی پروپیگنڈا کرنے والے پاکستانی کو ملک بدر کرنے کا فیصلہ

رومانیہ کی حکومت نے ایک پاکستانی شہری کو مبینہ طور پر ’جہادی پروپیگنڈا‘ کرنے کے جرم میں ملوث ہونے کی بنا پر ملک بدر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ شخص 2015ء کے آخر میں غیر قانونی طور پر رومانیہ میں داخل ہوا تھا۔

نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق رومانیہ نے ایک ایسے پاکستانی تارک وطن کو ملک بدر کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو مبینیہ طور پر انٹرنیٹ کے ذریعے جہادی پروپیگنڈا کر رہا تھا۔ حکام کے مطابق یہ شخص 2015ء کے اواخر میں غیر قانونی طور پر یورپی یونین کی حدود میں داخل ہوا تھا۔

جرمنی نے اس سال اب تک کتنے پاکستانیوں کو پناہ دی؟

جرمنی میں مہاجرین سے متعلق نئے قوانین

اس کیس کی تحقیقات سے وابستہ ایک امیگریشن اہلکار نے نیوز ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مشتبہ پاکستانی تارک وطن ’پولیس کی تحویل میں ہے اور اسے ملک بدر کر کے واپس پاکستان بھیجنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں‘۔

رومانیہ سے ملک بدری کے علاوہ اس پاکستانی شہری کی ملک میں دوبارہ آمد پر بھی دس برس تک پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس کیس کی تفتیش کرنے والے خفیہ ادارے کے حکام کی جانب سے جاری کیے گئے ایک تحریری بیان کے مطابق حکام پاکستان سے تعلق رکھنے والا یہ تارک وطن اس وقت حکام کی نظروں میں آیا جب وہ انٹرنیٹ کے ذریعے مسلسل جہادی پروپیگنڈا کر رہا تھا۔

بیان کے مطابق یہ شخص، ’’انٹرنیٹ کے ذریعے پاکستان اور خطے میں سرگرم دہشت گرد گروہوں کی حمایت میں پروپیگنڈا جاری رکھے ہوئے تھا۔ وہ اسلامی شدت پسندی کی حمایت کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سطح پر جہاد کرنے کی دعوت بھی دے رہا تھا۔‘‘

رواں برس فرانس اور بیلجیم میں دہشت گردانہ حملوں کے بعد سے رومانیہ کی حکومت دہشت گردی کے خلاف سخت ترین قوانین بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ پیر کے روز رومانیہ کے اراکین پارلیمنٹ نے ایک ایسا قانونی مسودہ متعارف کرایا ہے جس کے مطابق شدت پسندی میں ملوث مشتبہ غیر ملکیوں کو رومانیہ سے ملک بدر کرنا آسان ہو جائے گا۔

’تارکین وطن کو اٹلی سے بھی ملک بدر کر دیا جائے‘

ہمیں واپس آنے دو! پاکستانی تارکین وطن

DW.COM