1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جہادی حملے میں پادری کا قتل: فرانسیسی مسلمان گرجا گھروں میں

ایک فرانسیسی کلیسا پر دو جہادی مسلمانوں کے حالیہ حملے میں ایک بزرگ پادری کے سفاکانہ قتل کی مذمت کرتے ہوئے ہزاروں مسلمانوں نے اپنے ہم وطن مسیحیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کلیسائی عبادات میں شرکت کی۔

Frankreich Muslimischer Anbeter vor der Saint-Etienne-Kirche

ساں ایتی اَین نامی قصبے میں اس کلیسا کے باہر کھڑا ایک مسلمان اظہار تعزیت کرتا ہوا، جس کی قربان گاہ پر 85 سالہ پادری ژاک ہامل کا گلا کاٹ دیا گیا تھا

فرانسیسی دارالحکومت پیرس سے اتوار اکتیس جولائی کو ملنے والی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق اس یورپی ملک میں آباد مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کا آج بہت سے کیتھولک گرجا گھروں میں جا کر وہاں اتوار کی صبح ہونے والی اجتماعی عبادات میں شرکت کرنا مسیحی برادری کے ساتھ یکجہتی کا مظہر ایک ایسا عمل تھا، جس کا مقصد یہ ظاہر کرنا بھی تھا کہ عام فرانسیسی مسلمان بھی اس قتل کی اتنی ہی مذمت کرتے ہیں، جتنی کہ دوسرے شہری۔

خبر رساں ادارے اے پی نے لکھا ہے کہ مسلمانوں کی طرف سے آج کلیساؤں میں دعائیہ اجتماعات میں شرکت صرف فرانس ہی میں نہیں بلکہ دیگر یورپی ملکوں میں بھی کی گئی۔

فرانسیسی نشریاتی اداروں کی طرف سے دکھائی جانے والی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا تھا کہ مثال کے طور پر کس طرح رُوئیں (Rouen) کے شہر میں گوتھک طرز تعمیر والے بہت بڑے اور مرکزی کیتھیڈرل میں اتوار کی اجتماعی عبادت کے دوران درجنوں مسلمان بھی موجود تھے۔

نارمنڈی کے فرانسیسی علاقے میں رُوئیں کا شہر ’ساں ایتی اَین‘ نامی اس قصبے سے محض چند کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے، جہاں دو مسلح مسلمان عسکریت پسندوں نے منگل 26 جولائی کے روز ایک کلیسا میں گھس کر وہاں موجود متعدد افراد کو یرغمال بنا لیا تھا۔

یرغمالیوں میں متعدد پادری اور راہبائیں بھی شامل تھے، جن میں سے ایک 85 سالہ پادری ژاک ہامل کا حملہ آوروں میں سے ایک نے کلیسا کی قربان گاہ پر گلا کاٹ دیا تھا۔ بعد ازاں یرغمالیوں کو رہا کرانے کے لیے کی گئی پولیس کی کارروائی میں یہ دونوں حملہ آور بھی مارے گئے تھے۔

فرانس میں، جسے یورپی یونین کے رکن ملکوں میں سے مسلمان دہشت گردوں کے خونریز حملوں کا سب سے زیادہ سامنا ہے، آج ہی کئی دیگر مقامات پر بھی بین المذاہبی اجتماعات منعقد ہوئے۔

Italien Teilnehmer der Muslimischen Gemeinde in der Santa Maria Caravaggio- Kirche

اطالوی شہر میلان کے سانتا ماریا کلیسا میں ایک اجتماعی تعزیتی تقریب میں شریک مسلمان خواتین و حضرات

پیرس کے مشہور زمانہ نوٹرے ڈیم کیتھیڈرل میں ہونے والی مختلف مذاہب کے پیروکاروں کی ایک اجتماعی عبادت میں جن مسلمانوں نے شرکت کی، ان میں پیرس کی سب سے بڑی مسجد کے ریکٹر دلیل بوبکر بھی شامل تھے۔

مسلمانوں، مسیحیوں اور دیگر مذاہب کے ماننے والوں کی ایسی مشترکہ کلیسائی دعائیہ تقریبات فرانس کے علاوہ اٹلی میں بھی منعقد کی گئیں۔ اطالوی شہر نیپلز کے ڈومو کیتھیڈرل کے قریب سینٹ جینارو نامی چرچ کی قربان گاہ سے حاضرین سے خطاب کرنے والوں میں عبداللہ کوزولینو بھی شامل تھے۔

عبداللہ کوزولینو اٹلی میں مسلمانون کی مرکزی تنظیم ’اسلامک کنفیڈریشن‘ کے سیکرٹری جنرل ہیں، جنہوں نے حاضرین سے اپنے خطاب میں کہا کہ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ مختلف مذاہب کے مابین مشترکہ اقدار کا زیادہ سے زیادہ عملی مظاہرہ کرتے ہوئے معاشرتی سطح پر یکجہتی اور بھائی چارے کو فروغ دیا جائے۔