1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

'جہادی‘ آیات کو اسکولوں میں پڑھایا جائے، اسلامی نظریاتی کونسل

پاکستانی پارلیمنٹ کو اسلامی قوانین پر مشاورت دینے والے ادارے اسلامی نظریاتی کونسل نے ایک نئی سفارش میں حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اسکولوں میں ’جہادی‘ آیات کے پڑھائے جانے کو لازمی بنائے۔

اسلامی نظریاتی کونسل کے مطابق حکومت کو چاہیے کہ پرائمری سے سیکنڈری لیول تک کے تمام اسکولوں میں اس بات کو لازمی بنایا جائے کہ بچے ان قرآنی آیات کا مطالعہ کریں، جن میں جہاد کی اہمیت کا تذکرہ کیا گیا ہے۔

کونسل کی طرف سے یہ مطالبہ منگل کے روز اس کے دو سو پانچویں اجلاس میں چیئرمین محمد شیرانی کی سربراہی میں کیا گیا۔ کونسل کے اراکین نے کہا کہ ملکی اسکولوں کے سلیبس میں تبدیلی کی جانا چاہیے۔

گزشتہ ماہ اسلامی نظریاتی کونسل ہی کی سفارش پر وزارت برائے تعلیم نے سرکاری تعلیمی اداروں کے لیے سلیبس تیار کیا تھا جس میں پہلی سے بارہویں جماعت تک اسکولوں میں طالب علموں کو قرآن کی تعلیم دینا لازمی قرار دیا گیا تھا۔

تاہم کونسل نے منگل کے اجلاس میں یہ نکتہ اٹھایا کہ وزارت نے مسودے میں ’جہادی‘ آیات تو شامل ہی نہیں کیں۔ کونسل کے اراکین نے اس بات پر برہمی ظاہر کی اور کہا کہ حکومت کو اس کا فوری تدارک کرنا چاہیے۔

اس بارے میں کونسل کے رکن زاہد محمود قاسمی کا ایک پاکستانی اخبار سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’قرآن میں قریباً چار سو چوراسی آیات جہاد سے متعلق ہیں تاہم سلیبس میں ایک بھی ایسی آیت شامل نہیں کی گئی۔ اس سے حکومت کی بدنیتی کا ثبوت ملتا ہے۔‘‘

کونسل کی متنازعہ سفارشات کی تاریخ

یہ پہلا موقع نہیں کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات نے ملکی اور غیر ملکی سطح پر تنازعہ کھڑا کر دیا ہو۔ کونسل حالیہ برسوں میں اپنے متنازعہ بیانات کی وجہ سے مرکزِ نگاہ رہی۔ پاکستان کے ایوانِ بالا سینیٹ کے بعض ارکان نے تو اس کونسل کو تحلیل کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

گزشتہ کچھ برسوں میں اس کے چیئرمین مولانا محمد شیرانی نے انتہائی متنازعہ بیانات دیے ہیں، جیسے کہ انہوں نے زنا بالجبر کے مقدمات میں ڈی این اے ٹیسٹ کو غیر اسلامی قرار دیا، شادی کی عمر کے تعین کو غیر شرعی قرار دیا اور مرد کی مرضی کے بغیر عورت کے طلاق کے حق کی بھی مخالفت کی۔

کچھ عرصے پہلے اُن کے اِس بیان نے کہ مرد عورت کی معمولی پٹائی کرسکتا ہے نے پاکستان کے سیاسی و سماجی حلقوں میں ہل چل مچا دی تھی۔

معروف تجزیہ نگار سہیل وڑائچ نے ڈوئچے ویلے سے بات چیت کرتے ہوئے کہا، ’’اسلامی نظریاتی کونسل میں تقرریاں سیاسی بنیادوں پر ہوتی ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ اس کی سربراہی کسی ایسے شخص کے پاس ہو جو مذہب، جدیدیت، سیاست اور جمہوری فلسفے پر عبور رکھتا ہو اور جدت پسند ہو۔ مولانا شیرانی قدامت پسند ہیں اور اپنے نظریات کے حوالے سے بہت سخت گیر سمجھے جاتے ہیں۔ اُن کے بیانات نے اسلامی نظریاتی کونسل کو متنازعہ بنا دیا ہے اور انہوں نے رِبا اور بینکاری سمیت کئی اور اہم مسائل پر کوئی ایسے شاہ کار فیصلے نہیں دیے، جن کو قابل ستائش کہا جائے۔‘‘

جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے ڈاکڑ سید عالم محسود نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’قائد اعظم کی گیارہ اگست کی مشہور تقریر کے بعد آئین میں ایسے کسی ادارے کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے تھی کیوں کہ اس تقریرمیں جناح صاحب نے تما م شہریوں کو برابر قرار دیا تھا۔ مجھے بتائیں کہ اس کونسل میں کیا کوئی غیر مسلم پاکستانی ہے؟ اس میں مختلف فرقوں سے تعلق رکھنے والے لوگ موجود ہیں لیکن برتری کسی ایک فرقے والوں کی نظر آتی ہے۔ کونسل کے سربراہ کے متنازعہ بیانات سے صرف اس ادارے کی ہی بے توقیری نہیں ہوتی بلکہ ملک کی بھی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔ پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ نے مذہبی رجعت پسندی کو فروغ دیا ہے۔‘‘