1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جہادیوں کے لئے چندہ جمع کرنے کا الزام، خاتون گرفتار

جرمن ذرائع ابلاغ کے مطابق پولیس نے ایک جہادی تنظیم کے سربراہ کی اہلیہ کو گرفتار کر لیا ہے۔ اس خاتون پر الزام ہے کہ وہ جہادی تنظیموں کے لئے جرمنی میں چندہ اکٹھا کرنے کا کام کرتی ہے۔

default

اطلاعات کے مطابق Fritz Gelowicz نامی ایک مبینہ جہادی کی اہلیہ کو ہفتے کے دن جنوبی جرمن شہر الم سے گرفتار کیا گیا۔ تیس سالہ Gelowicz اس وقت زیر حراست ہیں اور ان پر جرمنی کے اندر ہی ایک کار بم حملے کی منصوبہ بندی کا الزام ہے۔ سن دو ہزار سات میں جرمن پولیس نے اس سازش کو ناکام بناتے ہوئے تین مشتبہ افراد کو گرفتار کیا تھا جس کے بعد جرمن پولیس نے اب ہفتے کے دن اسی کیس سے وابستہ مزید گرفتاریاں کی ہیں۔

پولیس نے بتایا ہے کہ خاتون کے ساتھ دو مزید افراد کو بھی گرفتار کیا۔ ان افراد کا تعلق پاکستانی جہادی تنظیم اسلامک جہاد یونین سے بتایا گیا ہے۔ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ تینوں افراد کے پاس جرمن شہریت ہے۔

جرمن ذرائع ابلاغ میں کہا جا رہا ہے کہ گرفتار شدہ اٹھائیس سالہ خاتون Gelowicz کی بیوی ہے۔ پولیس نے اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ دوسری طرف استغاثہ نے کہا ہے کہ اسلام قبول کرنے والے Gelowicz نے انہیں اسلامک جہاد یونین آئی جے یو کے بارے میں اہم معلومات فراہم کی ہیں۔ ان اطلاعات کے مطابق اس کی بیوی ابھی بھی جہادی تنظیموں کے لئے چندہ اکٹھا کر رہی تھی۔ اطلاعات کے مطابق اس جہادی تنظیم نے پاکستانی قبائلی علاقے وزیرستان میں تربیتی کیمپ بھی بنا رکھے ہیں۔

Deutschland Terror Sauerland Prozess der Angeklagte Fritz Gelowicz

اسلام قبول کرکے جہادیوں سے ملنے والا Fritz Gelowicz

الم شہر سے گرفتارکی گئی خاتون اور اس کے مرد ساتھی نے مبینہ طور پر اکتوبر سے لے کر اب تک کوئی چوبیس سو یورو کی رقم آئی جے یو کو بھیجوائی جبکہ برلن میں موجود ان کے ساتھی نے چودہ سو یورو بھجوائے۔

جرمن استغاثہ کے ترجمان نے بتایا ہے کہ برلن میں موجود اس گروپ کے ساتھی کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب ایک ہفتہ قبل وہ ایک ٹرین کے ذریعے جرمنی سےنکلنے کی کوشش کر رہا تھا۔ ایک جرمن اخبار کے مطابق جرمن حکام کو شک تھا کہ یہ شخص دہشت گردی کی تربیت حاصل کرنے کے لئے افغانستان جانا چاہتا تھا۔

ڈوسلڈوف میں گرفتار اس گروپ کے سربراہ نے کہا ہے کہ ان کا گروپ القاعدہ کے کنٹرول میں نہیں ہے تاہم ان کے دہشت گرد تنظیم سے دوستانہ تعلقات ہیں۔

رپورٹ : عاطف بلوچ

ادارت : شادی خان سیف

DW.COM