1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جہادیوں کے خلاف عراقی جنگ، جان کیری بغداد میں

امریکی وزیر خارجہ غیر اعلانیہ دورے پر عراقی دارالحکومت پہنچ گئے ہیں۔ ان کے دورے کا بڑا مقصد سیاسی و مالیاتی بحران کی شکار العبادی حکومت کی بھرپور حمایت کرنا ہے۔

default

حیدر العبادی اور جان کیری بغداد میں

امریکی وزیر خاجہ جان کیری آج جمعے کے روز ایک غیر اعلانیہ دورے پرعراق پہنچے۔ اپنے اِس دورے کے دوران انہوں نے کئی اہم عراقی اور کرد رہنماؤں سے ملاقاتیں کی ہیں۔ ان میں عراقی وزیراعظم حیدر العبادی کے علاوہ اُن کی کابینہ کے وزیر خارجہ ابراہیم الجعفری شامل ہیں۔ کیری  عراق کے خود مختار علاقے کردستان کے وزیراعظم نچیروان ادریس بارازانی سے بھی ملاقات کریں گے۔ جان کیری سن 2014 کے بعد پہلی مرتبہ عراق کے دورے پر ہیں۔

امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان جان کیربی کا کہنا ہے کہ کیری نے عراقی دارالحکومت میں ملکی قیادت کے ساتھ ملاقات میں  بھرپور امریکی امداد و حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ انتہائی سکیورٹی والے علاقے گرین زون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عراق ایک انتہائی مشکل وقت سے گزر رہا ہے اور بغداد حکومت کو امریکی تعاون و امداد کی ضرورت ہے اور ایسے میں عراق کو تنہا چھوڑا گیا تو سارا ملک افراتفری کا شکار ہو سکتا ہے۔

 عراقی وزیر خارجہ ابراہیم الجعفری نے اپنے امریکی ہم منصب کی موجودگی میں کہا کہ امریکا 155 ملین ڈالر کا امدادی پیکج عراق کے اندرونی طور پر بے گھر اور مہاجرت پر مجبور افراد کے لیے دے گا۔ ایسے افراد کی تعداد تیس لاکھ بتائی جاتی ہے۔  اِس دورے میں امریکی عسکری اتحاد کی عراق فوج کے لیے تعاون کو بھی زیر بحث لایا گیا۔ عراقی فوج آج کل دہشت گرد تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے خلاف عسکری آپریشن کے مختلف مرحلوں کی پلاننگ کے علاوہ عملی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

Anti-IS Gipfel in London

عراقی وزیراعظم حیدر العبادی کی گفتگو کے دوران امریکی وزیر خارجہ

امریکی وزارت خارجہ کے مطابق عراق میں رونما ہونے والی سیاسی و عسکری تبدیلیوں کے تناظر میں جان کیری نے  العبادی حکومت کے ساتھ سکیورٹی، اقتصادی اور ٹیکنوکریٹ حکومت کے قیام کے حوالے سے پائی جانے والی سیاسی بےچینی پر بھی گفتگو کی۔ حیدرالعبادی کو غیر سیاسی و مذہبی اشرافیہ کی جانب مسلسل دباؤ کا سامنا ہے کہ وہ کرپشن کے خلاف مؤثر اقدامات کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کریں۔ اسی سلسلے میں العبیادی نے ٹیکنوکریٹ پر مشتمل کابینہ تشکیل دے تو دی ہے لیکن وہ ابھی پارلیمنٹ کی منظوری کی منتظر ہے۔

امریکی وزیر خارجہ نے وزیراعظم حیدرالعبادی کی اُن کوششوں کو مضبوط کرنے کا عندیہ ہے، جن کا مقصد سن 2003 کے بعد سے حکومت میں رہنے والے  وزراء سے نجات سے متعلق ہے۔ یہ وزراء گزشتہ تیرہ برسوں سے حکومت میں شریک ہیں اور اب ان میں سے کئی ایک کو کرپشن کے سنگین الزامات کا سامنا ہے۔ امریکی حکومتی حلقوں کا خیال ہے کہ العبادی کی کوششوں سے عراق کے ہیوی ویٹ وزراء ملکی سلامتی کے لیے عدم استحکام کا باعث بن سکتے ہیں اور اگر ایسا ہو گیا تو ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے خلاف عراقی فوج کے عسکری آپریشن کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچے گا۔ ابھی گزشتہ ہفتے کے دوران امریکی عسکری اتحاد کی فضائی مدد کے ساتھ عراقی فوج نے الانبار صوبے کے شہر الھیت کے کئی علاقوں پر قبضہ کر کے اسلامک اسٹیٹ‘ کو مزید پیچھے دھکیل دیا ہے۔