1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جھل مگسی میں مزار پر خود کش حملہ، ہلاکتوں کی تعداد اب چوبیس

پاکستانی صوبہ بلوچستان کے ضلع جھل مگسی کے ایک گاؤں میں شیعہ مسلمانوں کے لیے زیادہ اہم ایک مزار پر جمعرات کے روز کیے گئے ایک خود کش بم حملے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر اب چوبیس ہو گئی ہے۔ کئی زخمیوں کی حالت بھی نازک ہے۔

بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے ہفتہ سات اکتوبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق پولیس نے تصدیق کر دی ہے کہ اس مزار پر کیے گئے دہشت گردانہ حملے میں ہلاکتوں کی تعداد، جو کل جمعے کے روز تک 18 بنتی تھی، اب بڑھ کر چوبیس ہو گئی ہے۔

جھل مگسی ميں خونريز حملہ، داعش نے ذمہ داری قبول کر لی

کوئٹہ کے قریب بس اور وین میں تصادم، کم از کم تیرہ افراد ہلاک

نامعلوم افراد کا حملہ، ہزارہ کمیونٹی کے چار افراد ہلاک

ایسوسی ایٹڈ پریس نے لکھا ہے کہ اس خونریز دہشت گردانہ حملے میں ایک درجن سے زائد افراد تو موقع پر ہی ہلاک ہو گئے تھے، جس کے بعد کل جمعے کے روز بھی متعدد زخمی دم توڑ گئے تھے۔ اس کے بعد گزشتہ رات اور آج ہفتے کی صبح تک مزید چار زخمی اپنی زندگی کی بازی ہار گئے۔

ویڈیو دیکھیے 01:00

گوادر پورٹ ’ترقی کا زینہ‘

سینیئر پولیس اہلکار محمد اقبال کے مطابق آج ہفتے کی صبح تک اس خود کش بم حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 24 ہو چکی تھی اور 20 زخمیوں کا علاج جاری ہے، جن میں سے متعد دکی حالت نازک ہے۔

اس حملے میں ایک خود کش حملہ آور نے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے قریب 400 کلومیٹر مشرق کی طرف سے ضلع جھل مگسی کے ایک دور دراز گاؤں میں خود کو شیعہ مسلمانوں کے لیے زیادہ اہم ایک مزار پر دھماکے سے اڑا دیا تھا۔ یہ حملہ اس وقت کیا گیا تھا، جب اس مزار کا احاطہ زائرین سے بھرا ہوا تھا۔

شام اور عراق کے مختلف علاقوں میں سرگرم شدت پسند تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش نے، جو پاکستان اور افغانستان میں بھی اپنے قدم جمانے کی کوششوں میں ہے، اس خود کش حملے کی ذمے داری قبول کر لی تھی۔ یہی تنظیم ماضی میں بھی خاص طور پر بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کیے گئے کئی ہلاکت خیز دہشت گردانہ حملوں کی ذمے داری قبول کر چکی ہے۔

پاکستانی صوبہ بلوچستان کو شدت پسند مسلم گروپوں کی طرف سے خونریز حملوں کے علاوہ مقامی طور پر بلوچ قوم پسندوں کی اس مسلح بغاوت کا بھی سامنا ہے، جو صوبے کے عوام کے لیے زیادہ خود مختاری اور صوبے میں موجود تیل اور گیس جیسے قدرتی وسائل سے ہونے والی آمدنی میں سے بلوچ آبادی کے لیے زیادہ بڑے حصے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

DW.COM

Audios and videos on the topic