1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جھل مگسی ميں خونريز حملہ، داعش نے ذمہ داری قبول کر لی

پاکستان کے جنوب مغربی حصے ميں ايک مزار کے باہر ہونے والے خود کش بم حملے ميں اٹھارہ افراد ہلاک ہو گئے ہيں۔ دہشت گرد تنظيم اسلامک اسٹيٹ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

پاکستانی صوبہ بلوچستان ميں جھل مگسی کی درگاہ پر جمعرات کی شب ہونے والے خود کش دھماکے ميں اٹھارہ افراد کی ہلاکت کی تصديق کر دی گئی ہے جبکہ مقامی حکام کے مطابق مرنے والوں کی تعداد بيس ہے۔ اس واردات ميں کم از کم ستائيس افراد زخمی بھی ہوئے ہيں۔ صوبائی ہوم سيکرٹری اکبر ہريفال نے بتايا کہ خود کش حملہ آور نے پوليس اہلکاروں کی جانب سے روکے جانے پر درگاہ کے باہر خود کو اڑا ليا۔

سن 2005 ميں بھی جھل مگسی کے اسی مزار پر ہونے والے ايک دھماکے ميں پينتيس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ پانچ اکتوبر کو ہونے والا يہ تازہ دھماکا ايک ايسے وقت ہوا مسلمانوں کی ايک بڑی تعداد وہاں سالانہ تقريبات کے سلسلے ميں موجود تھی۔ دھماکا اس وقت ہوا، جب شام کے وقت درگاہ ميں محفل شبينہ جاری تھی۔

دہشت گرد گروہ داعش کی افغانستان اور پاکستان ميں سرگرم شاخ نے ايک بيان ميں اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ حملہ ايسے وقت کيا گيا جب فوجی ترجمان ميجر جنرل آصف غفور نے اسی روز يہ کہا تھا کہ افواج کی دہشت گردی کے خلاف پيش رفت پر منفی اثرات مرتب کرنے کی نيت سے جارحانہ قوتيں کسی شدت پسندانہ کارروائی کی منصوبہ بندی ميں مصروف ہيں۔ اپنے اس بيان ميں فوجی ترجمان نے کسی مخصوص ’ايجنسی‘ کا ذکر نہيں کيا تاہم يہ ضرور کہا کہ پاکستان ميں اس وقت کسی بھی دہشت گرد تنظيم کا کوئی منظم نيٹ رک موجود نہيں ہے۔

ویڈیو دیکھیے 04:48

کیا پاکستان کو داعش سے خطرہ ہے؟

DW.COM

Audios and videos on the topic

ملتے جلتے مندرجات