1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جھارکنڈ میں بھگدڑ مچنے سے کم از کم گیارہ افراد ہلاک

مشرقی بھارتی ریاست جھارکنڈ میں ایک مندر کے باہر بھگدڑ کے نتیجے میں کم از کم گیارہ ہندو یاتری ہلاک ہو گئے ہیں۔

بھارتی پولیس کے مطابق مندر میں داخل ہونے کے لیے ڈیڑھ لاکھ افراد رات سے لائن لگا کر کھڑے تھے جب صبح چار اور ساڑھے چار بجے کے قریب بھگدڑ مچنے سے اس قطار کے درمیان سوئے ہوئے افراد کچل کر ہلاک ہو گئے۔ واضح رہے کہ بھارت میں اس طرح کے واقعات اکثر پیش آتے رہتے ہیں۔

حکام کے مطابق یہ حادثہ بیدیاناتھ جیوتری لنگا مندر کے باہر اس وقت پیش آیا جب یاتریوں کو یہ اطلاع ملی کی مندر کے دروازے کھلنے جا رہے ہیں۔ یاتریوں کی قطار کوئی چھ کلومیٹر طویل تھی اور کئی یاتری وہاں سوئے بھی ہوئے تھے۔

اعلیٰ پولیس اہل کار ایس این پردھان کے مطابق پیر کی صبح ہونے سے پہلے ہی یاتری مندر کے باہر جمع ہونا شروع ہو گئے تھے جہاں شراوان کے مہینے کی پوجائیں شروع ہونا تھیں۔ یہاں ایک مرکزی مندر کے علاوہ اکیس چھوٹے مندر ہیں جو کہ بھگوان شیو کی عبادت کے لیے مختص ہیں۔

پردھان کا مزید کہنا تھا، ’’مندر کی پہلی پوجا پادری ادا کرتے ہیں جس کے بعد مندر کے دروازے یاتریوں کے لیے کھول دیے جاتے ہیں۔ آج جب ایسا ہوا تو بہت سے افراد مندر میں پہلے پہنچنے کی کوشش میں دھکم پیل کرنے لگے جس کے باعث لوگوں میں افراتفری مچ گئی اور بہت سے یاتری پیروں تلے کچلے گئے۔‘‘

پولیس نے اس حادثے میں گیارہ افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔ پردھان کہتے ہیں، ’’ابتدائی خبروں کے مطابق اس حادثے میں زخمی ہونے والے بیس کے قریب افراد کی حالت اب خطرے سے باہر ہے۔‘‘

ذرائع ابلاغ میں جاری ہونے والی تصویروں میں بھگوان شیو کے پیروکاوں کی کچلی ہوئی لاشوں کو کنکریٹ کے بڑے سلیوں پر پڑا ہوا دیکھا جا سکتا ہے۔ ٹی وی چینلز رضاکاروں کو زخمی افراد کو اٹھائے ایمبولینسوں کی طرف لے جاتے دکھا رہے ہیں۔

پردھان نے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا، ’’ہمارہ اندازہ ہے کہ ایک لاکھ سے ڈیڑھ لاکھ کے قریب یاتری یہاں موجود تھے۔‘‘

اس علاقے سے تعلق رکھنے والے وزیر نشیکانت دوبے کا کہنا ہے کہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ میلا ہر برس ہزاروں افراد کی توجہ کا مرکز ہوتا ہے، انتظامیہ نے اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کے لیے مناسب اقدامات نہیں کیے گئے تھے۔ دوبے کا یہ بھی کہنا تھا کہ طویل سفر طے کر کے اس جگہ تک آنے کے بعد لوگ مندر میں جلد داخلے کے لیے بے چین تھے۔