1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جکارتہ کے متنازعہ مسيحی گورنر کے خلاف عوام سڑکوں پر

انڈونيشی دارالحکومت جکارتہ ميں آج ہزارہا مسلمان سراپا احتجاج ہيں۔ مظاہرين شہر کے مسيحی گورنر کے خلاف سڑکوں پر نکلے ہيں، جن پر الزام ہے کہ انہوں نے مسلمانوں کی مذہبی کتاب قرآن پاک کی بے حرمتی کی ہے۔

جکارتہ شہر کے مرکز ميں جمعہ دو دسمبر کے روز ہزارہا افراد نے متنازعہ گورنر کی تعيناتی کے خلاف احتجاج کيا۔ يہ مظاہرين مطالبہ کر رہے تھے کہ گورنر بسوکی تجھاجہ پرناما کو، جن پر قرآن کی بے حرمتی کا الزام ہے، جيل بھيجا جائے۔ پوليس کے اندازوں کے مطابق لگ بھگ ڈيڑھ لاکھ افراد نے آج کے مظاہروں ميں شرکت کی، جن ميں بہت سے ايسے لوگ بھی شامل تھے جو اس احتجاج ميں شرکت کی غرض سے جکارتہ کے قريبی شہروں اور ديہاتوں سے آئے تھے۔ چند رپورٹوں ميں شرکاء کی تعداد دو لاکھ تک بتائی گئی ہے۔

ملکی صدر جوکو ودودو نے گورنر کے خلاف احتجاج کو ’سياسی اداکاروں‘ کی کارروائی قرار ديا ہے۔ ان کے مطابق اس صورتحال کو ان کی حکومت کو غير مستحکم کرنے کے ليے استعمال کيا جا رہا ہے۔ انہی اسباب کی وجہ سے مقامی پوليس نے غداری کے الزامات پر دس افراد کو حراست ميں لے ليا ہے۔

انڈونيشيا کی نيوز ايجنسی انتارا کی رپورٹوں کے مطابق جکارتہ ميں آج کے مظاہرے ميں متوقع طور پر پيش آنے والے کسی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے ليے بائيس ہزار پوليس اہلکاروں کو تعينات کيا گيا تھا۔ سخت نظريات کے حامل مسلمانوں کی گزشتہ ماہ منعقد ہونے والی اسی طرح کی ايک ريلی ميں حالات بگڑ گئے تھے اور پوليس کے ساتھ تصادم کے نتيجے ميں کم از کم ايک سو افراد زخمی ہو گئے تھے۔

جکارتہ کے گورنر بسوکی تجھاجہ پرناما کا ری اليکشن کے ليے آئندہ برس فروری ميں دو مسلمان اميدواروں کے ساتھ مقابلہ ہے۔ یہ انتخاب ان دنوں انڈونيشيا ميں سياسی گرما گرمی کا سبب بنا ہوا ہے۔ ايسی افواہيں بھی گردش کر رہی ہيں کہ صدر جوکو ودودو کی حکومت کو کمزور کرنے کی کوششيں جاری ہيں تاکہ وہ سن 2019 ميں ہونے والے صدارتی انتخابات ميں دوسری مدت کے ليے صدر نہ بن سکيں۔ يہ امر اہم ہے کہ جکارتہ کے گورنر بسوکی تجھاجہ پرناما ملکی صدر کے اتحادی ہيں۔

آبادی کے لحاظ سے انڈونيشيا سب سے بڑا مسلمان ملک ہے ليکن وہاں چھ مختلف مذاہب کے ماننے والے بسے ہوئے ہيں۔

جکارتہ کے گورنر بسوکی تجھاجہ پرناما کے خلاف تحقيقات جاری ہيں۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے سياسی مخالف کی جانب سے سياسی مہم کے دوران قرآن کے استعمال پر متنازعہ بيان ديا تھا۔ وہ اس سلسلے ميں معافی مانگ چکے ہيں تاہم ان کے بقول ان سے کوئی غلطی سرزد نہيں ہوئی۔