1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

جُوں سے جلد، جگر اور لبلبے کے کینسر کا علاج ممکن

برازیل کے سائنسدانوں نے حال ہی میں انکشاف کیا ہے کہ بظاہر بے حد معمولی اورحقیر سی دکھائی دینے والی جُوں دراصل جلد، جگر اور لبلبےکے کینسر کے علاج کی وجہ بن سکتی ہے۔

default

برازیلی سائنسدانوں کے مطابق جنوبی امریکی ممالک میں پائی جانے والی ایمبلی اوما کانینسی Amblyomma Cajennense نامی جوں کے منہ کے لعاب میں ایک خاص پروٹین موجود ہوتی ہے۔ محققین کے مطابق یہ پروٹین صحت مند خلیوں کو متاثر کئے بغیرکینسر زدہ خلیوں کو مکمل طور پر تباہ کرسکتی ہے۔ Tick یعنی چچڑی یا جوں ایک ایسا خون چوسنے والا طفیلی کیڑا ہے جو کسی جاندار کی جلد میں اپنا سر داخل کرکے خون چوستا ہے۔

اس خاص قسم کی جوں پر یہ تحقیق برازیلی شہر ساؤ پاؤلو کے بیوتانتن انسٹیٹیوٹ کے محققین نے کی ہے۔ انسٹیٹیوٹ کی مالیکیولر بائیالوجسٹ آنا ماریسا کے مطابق یہ بہت اہم اور بنیادی دریافت ہے۔ آنا ماریسا کا کہنا ہے کہ اس جوں کے منہ کے لعاب کا ایک خاص جزو کینسر کا تریاق ثابت ہوسکتا ہے۔

Krebszellen

کینسر کے خلیے ایمبلی اوما کانینسی نامی جُوں کے لعاب سے تباہ کئے جاسکتے ہیں

جانداروں کے خون میں ایک خاصیت ہوتی ہے کہ جیسے ہی چوٹ لگنے یا کٹ لگنے سے خون جسم سے باہر نکلتا ہے تو اس میں موجود خاص اجزا کی وجہ سے وہ جم جاتا ہے اور خون بہنا بند ہوجاتا ہے۔ مگر اس جوں کے منہ کے لعاب میں ایک ایسا جزو موجود ہوتا ہے جو خون کو جمنے نہیں دیتا، اس طرح یہ جوں بغیر رکے جاندار کی جسم سے خون چوستی رہتی ہے۔ آنا ماریسا کے مطابق وہ اسی خاصیت پر تحقیق کررہی تھیں کہ انہیں لعاب میں فیکٹر ایکس ایکٹیو Factor X active نامی پروٹین کی موجودگی کا پتہ چلا۔

اس پروٹین کی خصوصیات خون کو جمنے سے روکنے والے ایک عام جزو سے ملتی جلتی ہوتی ہیں جسے TFPI (Tissue Factor Pathway Inhibitor) کہا جاتا ہے، جو کہ خلیوں کی نشونما پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔

اس مخصوص پروٹین کی موجودگی سے یہ مفروضہ قائم کیا گیا کہ یہ کینسر زدہ خلیوں پر بھی اثر انداز ہوگی۔ جس کی تصدیق کے لئے کلچر شدہ خلیوں پر لیبارٹری تجربات کئے گئے۔ ان تجربات کے نتائج توقعات سے بھی بڑھ کرسامنے آئے۔ آنا ماریسا کے مطابق ہم یہ جان کر حیران رہ گئے کہ اس پروٹین نے تندرست خلیوں کوتو کوئی نقصان نہیں پہنچایا مگر کینسر زدہ خلیوں کو مار دیا۔

ماریسا کے مطابق ان کی تجربہ گاہ میں جانوروں پر کئے گئے تجربات کے مطابق اس پروٹین سے چھوٹے سائز کے ٹیومر کا 14 دن تک علاج کرنے سے نہ صرف اس ٹیومر کی نشونما رک گئی، بلکہ اس کے حجم میں کمی بھی واقع ہوئی۔ جبکہ 42 دن کے علاج سے یہ ٹیومر مکمل طور پر غائب ہوگیا۔

تاہم برازیلی محققین کا کہنا ہے کہ اس دریافت سے انسانوں کے لئے دوائی تیار کرنے سے قبل طبی جانچ میں ابھی نہ صرف کئی برس لگیں گے بلکہ اس تحقیق کے لئے بڑے سرمائے کی بھی ضرورت ہوگی۔

رپورٹ: افسر اعوان

ادارت: امجد علی