1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جو کوکس کا قتل: برطانیہ سکتے میں، ’بریگزٹ‘ کی مہم متاثر

سکتے کا شکار برطانیہ میں ملکی پارلیمان کی رکن جو کوکس کے قتل سے ’بریگزٹ‘ ریفرنڈم کی مہم میں وقفہ آ گیا ہے۔ مقتولہ لیبر سیاستدان برطانیہ کے یورپی یونین میں رہنے کی حامی تھیں اور شامی مہاجرین کے حق میں آواز اٹھاتی تھیں۔

default

لندن میں برطانوی پارلیمنٹ کے باہر ایک شبینہ دعائیہ عبادت کا اہتمام بھی کیا گیا

برطانیہ میں گزشتہ روز ایک خاتون رکن پارلیمان کے قتل کے بعد ’بریگزٹ‘ یا برطانیہ کے یورپی یونین سے ممکنہ اخراج کے موضوع پر آئندہ عوامی ریفرنڈم کی مہم تقریباً منجمد ہو کر رہ گئی ہے۔ اس مہم کے حامی اور مخالف سیاستدانوں نے اپنی اپنی مہم Jo Cox کے قتل کے سوگ میں معطل کی ہے۔ مبصرین نے کہا ہے کہ اس خاتون سیاستدان کے قتل سے کہیں یورپی یونین میں رہنے یا نہ رہنے کی مہم میں مزید شدت پیدا ہونے سے معاشرے کو تقسیم کر دینے والی دراڑیں اور گہری نہ ہو جائیں۔

پولیس کے مطابق کوکس کے قتل کی تفتیش کے ساتھ ساتھ اس جرم کے محرکات کا تعین کرنے کی کوشش بھی جاری ہے۔ جو کوکس کے قاتل کا نام برطانوی میڈیا پر تھامس مائر بتایا گیا ہے اور عمومی اندازے ہیں کہ وہ انتہائی دائیں بازو کی جانب جھکاؤ رکھتا ہے۔ ایک عینی شاہد کے مطابق مبینہ قاتل واردات کے وقت چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا: ’’برطانیہ کو سب سے آگے رکھو۔‘‘ Britain First یا ’پہلے برطانیہ‘ اس یورپی ملک میں مہاجرین کی آمد کی مخالفت کرنے والے انتہائی دائیں بازو کے ایک سرگرم گروپ کا نام بھی ہے۔

Trauer um Jo Cox

مقتولہ جو کوکس کی تصویر کے سامنے رکھے گئے پھول

لیبر پارٹی کی سیاستدان جو کوکس شمالی انگلینڈ کے شہر لیڈز کے قریب اپنے انتخابی حلقے میں ہی حملے کے نتیجے میں ہلاک ہوئیں اور انہیں گولیاں لگی تھیں۔ اُن پر حملہ برسٹال نامی ایک گاؤں کی اُس لائبریری کے باہر کیا گیا، جہاں وہ اپنے حلقے کے افراد کے ساتھ ملاقاتیں کیا کر تی تھیں۔ وہ اس حملے میں شدید زخمی ہو گئی تھیں اور ان کا انتقال ہسپتال میں کچھ ہی دیر بعد ہوا تھا۔

جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب مقتولہ کے لیے لندن میں برطانوی پارلیمنٹ کے باہر ایک شبینہ دعائیہ عبادت کا اہتمام بھی کیا گیا۔ اس اجتماع میں اراکین پارلیمان اور مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنوں نے شرکت کی۔ اس سوگوار تقریب میں لیبر پارٹی کے رہنما جیریمی کوربن بھی شریک ہوئے۔ اس موقع پر کوربن نے کہا کہ جو کچھ ہوا ہے، وہ صرف نفرت کے احساس سے بھی بہت آگے کی بات ہے۔

جو کوکس کے قتل کے بعد لندن کے نواحی علاقے ٹُوٹِنگ میں پارلیمنٹ کی ایک نشست کے لیے ضمنی الیکشن میں لیبر پارٹی کی کامیابی بھی دھندلا کر رہ گئی ہے۔ اس ضمنی الیکشن میں کامیاب ہونے والی خاتون سیاستدان روزینہ خان نے ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی کے ایک مرکز کے باہر تقریر کرنے سے گریز کیا اور کہا کہ جو کوکس کے افسوسناک قتل نے اُنہیں بری طرح متاثر کیا ہے اور وہ اپنی انتخابی کامیابی کے باوجود اپنے ووٹرز سے خطاب کرنے کے قابل نہیں رہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا، ’’جو کوکس کے قتل سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جمہوریت جتنی قیمتی ہے، اتنی ہی کمزور بھی ہے۔‘‘

DW.COM