1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جو کوکس کا قتل برطانوی ریفرنڈم پر اثر انداز تو ہو گا

برطانیہ کے یورپی یونین کا رکن رہنے کے حق میں جاری مہم میں مصروف جو کوکس کے قتل کا نتیجہ برطانوی عوام کے کوکس کی سیاسی رائے کی جانب جھکاؤ کی صورت میں نکلے گا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق کوکس کی موت کا ایک اہم اثر برطانوی ووٹروں پر یہ ہو سکتا ہے کہ وہ یورپی یونین کی رکنیت برقرار رکھنے کی جانب بڑھ جائیں۔ ماہرین کے مطابق اس طرح برطانوی ووٹر اپنی رائے کوکس کے نظریے کی جانب موڑ سکتے ہیں اور خصوصاﹰ ایسے افراد جو اب تک اس بابت فیصلہ نہیں کر پائے تھے، وہ اب ممکنہ طور پر یورپی یونین کے حق میں اپنے رائے دے سکتے ہیں۔

برطانیہ میں 23 جون کو ہونے والے ریفرنڈم کے سلسلے میں یورپی یونین کے حق میں سیاسی مہم میں مصروف رکن پارلیمان جو کوکس پر جمعرات کے روز شمالی انگلینڈ میں ان کے اپنے ہی انتخابی حلقے میں جان لیوا حملے سے قبل متضاد موقف کے حامل افراد کے درمیان بحث کڑواہٹ اختیار کر گئی تھی۔

وارِک یونیورسٹی کے شعبہ سیاسیات کے پروفیسر وین گرانٹ کے مطابق، ’’یہ ایک کڑوی مہم بن چکی تھی، مگر اب فریقین ایک دوسرے پر کسی ذاتی حملے سے قبل ضرور سوچیں گے۔‘‘

Großbritannien Cameron und Corbyn PK nach Mord an Jo Cox

اس واقعے سے یورپی یونین کی رکنیت برقرار رکھنے والوں کی جانب ہم دردیاں بڑھتی دکھائی دی ہیں

عوامی جائزوں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ریفرنڈم میں کوئی بھی نتیجہ نکل سکتا ہے کیوں کہ یورپی یونین کی رکنیت کے حق اور مخالفت میں عوامی رائے کا تناسب تقریباﹰ ایک جیسا ہے بلکہ کوکس کے قتل سے چند گھنٹے پہلے سامنے آنے والے دو نئے عوامی جائزوں سے یہ بھی ظاہر ہو رہا تھا کہ شاید یورپی یونین میں برطانیہ کی 43 سالہ رکنیت اب خاتمے کے قریب ہے۔

سیاسیات کے ایک اور برطانوی پروفیسر جان کرٹِس کے مطابق، ’یورپی یونین کی رکنیت چھوڑنے کے حامی سیاست دانوں کو اب اپنے بیانات میں کم سخت الفاظ استعمال کرنا پڑیں گے۔ اس سے قبل یہ سیاست دان انتہائی سخت بیانات دیتے آئے ہیں۔ اب سیاست دانوں کا ایک دوسرے پر ذاتی حملے کرنا ممکن نہیں رہے گا۔‘‘

تاہم کرٹِس نے یہ بھی کہا کہ یورپی یونین کی رکنیت برقرار رکھنے کی مہم کی قیادت کرنے والے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کو کوکس کی ہلاکت کے بعد اپنی مہم روکنا پڑی تھی، جس کا کافی نقصان ہوا ہے اور اب انہیں اس مہم کو دوبارہ پوری رفتار دینے کے لیے مزید وقت درکار ہو گا۔

یورپی یونین کی رکنیت برقرار رکھنے اور ختم کر دینے کے حامی دونوں ہی کیمپوں کی جانب سے کوکس کی ہلاکت کے بعد اعلان کیا گیا تھا کہ وہ ہفتے کے روز کسی بھی قسم کا کوئی بڑا اجتماع یا پروگرام منعقد نہیں کریں گے۔ اے ایف پی کے مطابق اس کا مطلب یہ ہے کہ اب ان دونوں ہی کمیپوں کے پاس اپنی مہم کے لیے باقی صرف چار روز ہی بچے ہیں۔