جو ملک مخالفت کرے گا، اس کی امداد روک دیں گے، ٹرمپ | حالات حاضرہ | DW | 21.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جو ملک مخالفت کرے گا، اس کی امداد روک دیں گے، ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں جو کوئی ملک یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے امریکی فیصلے کی مخالفت کرے گا، اس کی امداد روک دی جائے گی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ میں متعین اپنی سفیر نِکی ہیلی کو ہدایت کی ہے کہ وہ انہیں اُن ملکوں کے نام فراہم کریں جو امریکی فیصلے کی مخالفت میں ووٹ ڈالیں گے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے فیصلے کے خلاف جمع کرائی گئی ایک قرارداد پر آج رائے شماری  ہو گی۔ مسلم رہنماؤں نے امریکی صدر کے اس نئی حکمت عملی پر تنقید کرتے ہوئے اسے ’بدمعاشی اور بلیک میلنگ‘ قرار دیا ہے۔

اقوام متحدہ کی 193 رکنی جنرل اسمبلی میں امریکی سفیر کا گزشتہ روز کہنا تھا کہ امریکا ان تمام ممالک کو جواب دے گا، جو جنرل اسمبلی کی قرارداد کے حق میں ووٹ دیں گے۔ جنرل اسمبلی میں پیش کی جانے والی قرار داد میں امریکی صدر سے یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت قرار دینے کا فیصلہ واپس لینے سے مطالبہ کیا گیا ہے۔

Türkei Riyad al-Maliki und Mevlut Cavusoglu in Istanbul (picture alliance/AA/B. Ozkan )

ترک وزیر خارجہ چاوش اولو نے امریکی صدر کے بیان کو دھمکی قرار دیا ہے

امریکی فیصلہ: ایک سو برس بعد فلسطینیوں پر ایک اور کاری وار

بدھ کے روز واشنگٹن میں کابینہ کے اجلاس کے آغاز  سے پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا، ’’ان تمام اقوام کے لیے، جو ہمارا ہی پیسہ لیتے ہیں اور پھر ہمارے خلاف ہی ووٹ دیتے ہیں۔ یہ کروڑوں، یہاں تک کہ اربوں ڈالر لیتے ہیں اور پھر ہمارے خلاف ووٹ دیتے ہیں۔‘‘ اس موقع صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ کا مزید کہنا تھا، ’’ہم یہ رائے شماری دیکھ رہے ہیں، انہیں ہمارے خلاف ووٹ دینے دیں، ہم بچت کریں گے، ہمیں کوئی پروا نہیں۔‘‘

صدر ٹرمپ کے اس بیان کے فورا بعد کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز  کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر نهاد عوض کا ٹوئٹ کے ذریعے تبصرہ کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’ہماری حکومت کو اقوام متحدہ میں اپنی قیادت کا استعمال ان اقوام کو  دھمکانے اور بلیک میل کرنے کے لیے نہیں کرنا چاہیے، جو یروشلم میں انصاف اور مذہبی آزادی کے لیے کھڑی ہیں۔ انصاف عیسائیت، یہودیت اور اسلام کی بنیادی قدر ہے۔ ‘‘

امریکی صدر کی اس دھمکی سے پہلے اقوام متحدہ میں فلسطینی سفیر ریاض منصور کا نیوز ایجنسی اے پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’جنرل اسمبلی میں ہمیں بہت زیادہ حمایت ملنے کی امید ہے۔‘‘

دوسری جانب ترک وزیر خارجہ چاوش اولو نے امریکی صدر کے بیان کو دھمکی قرار دیا ہے۔ جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت سے پہلے ان کا صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’مجھے امید ہے کہ اس امریکی دباؤ کو مسترد کر دیا جائے گا۔‘‘مسلم رہنماؤں نے امریکی صدر کے اس نئی حکمت عملی پر تنقید کرتے ہوئے اسے ’بدمعاشی اور بلیک میلنگ‘ قرار دیا ہے۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات