1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

’جو قوم دیے بجھا دے، وہ اندھیروں میں رہے گی‘

عبدالولی خان یونیورسٹی مردان کے لیکچر ضیاء اللہ ہمدرد نے مشال کو ایک مشتعل ہجوم کے ہاتھوں مرنے سے بچانے میں ناکامی پر اُس کے والدین سے معافی مانگی ہے اور بطور استاد یونیورسٹی سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

پاکستانی چینل جیو نیوز پر پروگرام ’آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ‘ میں ضیاء اللہ ہمدرد نے وہ پورا واقعہ بیان کیا، جب یونیورسٹی کے مشتعل طلبا مشال خان اور اس کے ساتھی طالب علم عبداللہ پر حملہ کرنے کے لیے جمع ہو رہے تھے۔ ضیاء اللہ نے بتایاکہ ڈیپارٹمنٹ کے باہر پندرہ بیس طلبا کھڑے تھے:’’میں نے چیئرمین آفس کا دفتر کھولا اور مشتعل ہجوم سے کہا کہ ان میں سے جو جو بات کرنا چاہتے ہیں، وہ کمرے کے اندر آ جائیں، جس کے بعد سات آٹھ طالب علم کمرے میں بات کرنے آ گئے۔

ضیاء اللہ نے بتایا:’’طلبا نے کہا کہ عبداللہ اور مشال مذہب کے خلاف بولتے ہیں۔ میں نے ان سے ثبوت مانگا، ان کے پاس کوئی ثبوت نہیں تھا۔ ایک طالب علم نے کہا کہ مشال روسی ایجنٹ ہے، میں نے کہا کہ کوئی ثبوت ہے تو  اس نے کہا کہ اسے روسی فنڈنگ ملتی ہے۔ ایک لڑکے نے کہا کہ دو مہینے قبل ہم بلوچستان گئے تھے، جہاں مشال نے حضرت داؤد کے بارے میں کچھ کہا تھا۔ اس طالب علم سے بھی میں نے کہا کہ اس کے پاس کوئی ثبوت ہے، تو اس کے پاس بھی کوئی ثبوت نہیں تھے۔ پھر میں نے اسے کہا کہ اسے میرے پاس پہلے شکایت لے کر آنا چاہیے تھا۔‘‘

ضیاء اللہ اس ٹی وی پروگرام میں بتاتے ہیں کہ اسی دوران انہیں فون پرمشال خان کے میسجز آ رہے تھے:’’وہ کہہ رہا تھا کہ یہ میرے بارے میں غلط الزامات لگا رہے ہیں۔ اسی دوران دو اور پروفیسر بھی کمرے میں آ گئے۔ ان اساتذہ نے بھی مشتعل طلبا کا غصہ کم کرنے کی کوشش کی اور ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن اور پولیس کو بھی بلا لیا۔‘‘ مشال خان کے استاد نے بتایا کہ  کمرے سے باہر کوئی تقریرکر رہا تھا اور مردہ باد کے نعرے لگا رہا تھا اور طلبا کی تعداد میں اضافہ ہو رہا تھا۔

 ضیاء اللہ نے بتایا کہ اسی دوارن وہاں موجود ایک کلرک نے عبداللہ کے فون سے مشال کو فون کیا اور اسے کہا کہ وہ ہوسٹل سے نکل جائے، جس پر مشال نے بتایا کہ وہ یونیورسٹی سے باہر نکل چکا ہے ۔ ضیاء اللہ نے بتایا:’’مشال سے بات کرنے کے بعد ہم عبداللہ کو بچانے کی کوشش میں لگ گئے اور اسے چیئرمین آفس کے باتھ روم میں بند کر دیا ۔ لیکن کچھ ہی لمحوں میں مشتعل طلبا لاٹھیوں سمیت کمرے کے اندر داخل ہو گئے اور ہمیں مارتے ہوئے عبداللہ تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے اور اسے مارنا شروع کر دیا۔‘‘ اس واقعے کے بعد کچھ اور طلبا نے ضیاء اللہ ہمدرد سے  ان کا فون چھین لیا اور تھوڑی ہی دیر میں خبر ملی کہ مشتعل ہجوم نے مشال خان کو جان سے مار ڈالا ہے۔

ضیاء اللہ نے شاہ زیب خان زادہ کو بتایا،’’یونیورسٹی نے ایک جعلی نوٹیفیکیشن جاری کیا ہوا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ مشال خان گستاخی کا مرتکب ہوا ہے اور اسے یونیورسٹی سے نکال دیا گیا ہے۔ یہ نوٹیفیکیشن مشعل کی ہلاکت کے بعد نکالا گیا تاکہ میڈیا میں کوئی مسئلہ نہ بن سکے۔ طلبا نے نہیں بلکہ اس کے ساتھ اساتذہ نے ایک چراغ بجھا دیا۔‘‘

ضیاء اللہ نے کہا کہ وہ  چار دنوں سے سوئے نہیں ہیں:’’مجھے خیال آتا ہے کہ رسول نے اسے گلے لگایا ہوا ہے اور مشال مجھ سے قیامت کو پوچھے گا کہ تم میرے استاد تھے، تم مجھے بچا نہیں سکے۔‘‘

مشال کے استاد نے اس کے والدین سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا:’’آپ کے بیٹے کو میں جانتا تھا، وہ کتابوں سے محبت کرتا تھا۔ جب ہمارے ہوسٹل میں بجلی نہیں ہوتی تھی تو میں اس کے کمرے میں سونے کے لیے چلا جاتا تھا۔ مشال مولوی نہیں تھا، وہ ایک ’ہیومنسٹ‘ تھا، چی گویرا  اور باچا خان کی تصاویر اس نے کمرے میں لگائی ہوئی تھیں۔ میں نے اسے کبھی کتاب کے بغیر نہیں دیکھا، وہ صوفی ازم کے بارے میں جاننا چاہتا تھا۔ اگر میں یہ دیکھ لیتا کہ اس کے کوئی خیالات اسے نقصان پہنچائیں گے تو میں سب سے پہلے اسے خبردار کرتا لیکن ایسا کچھ تھا ہی نہیں۔‘‘

ضیاء اللہ نے علماء سے التجا کرتے ہوئے کہا کہ خدارا قوم کو بتائیں کہ اگر کوئی گستاخی رسول یا اسلام کی توہین کا جرم کرتا بھی ہے تو قانون کو ہاتھ میں نہ لیں۔ ضیاء اللہ نےکہا کہ کتاب دوست مشال بہت اچھی روسی اور انگریزی زبان جانتا تھا:’’وہ اپنی کلاس میں اول آتا تھا۔ اگر کسی کو مشال سے شکایت تھی تو وہ ہم تک پہنچاتے، اسے یوں جان سے تو نہ مارتے۔‘‘

DW.COM